’’میں ابھی زندہ ہوں …‘‘ ضعیف خاتون کی فریاد

   

حیدرآباد۔/30 جنوری، ( سیاست نیوز) عہدیداروں کی جانب سے فلاحی اسکیمات کے استفادہ کنندگان کی فہرست سے ناموں کا اخراج کوئی نئی بات نہیں۔ زندہ افراد کو مُردہ قرار دیتے ہوئے فہرست رائے دہندگان سے بھی ناموں کو حذف کردیا جاتا ہے۔ جنگاؤں ضلع میں ایک ضعیف العمر خاتون کو عہدیداروں نے جیتے جی ماردیا اور آخر کار انسانی حقوق کمیشن کو مداخلت کرتے ہوئے ضعیف خاتون انجماں کے زندہ ہونے کی تصدیق کرنی پڑی۔ اطلاعات کے مطابق جنگاؤں کے لنگالہ گھن پور سے تعلق رکھنے والی انجماں گزشتہ 13 ماہ سے پنشن سے محروم ہے۔ وہ جب عہدیداروں سے رجوع ہوتی ہے تو اسے کہہ دیا گیا کہ وہ سرکاری ریکارڈ میں مرچکی ہے۔ انجماں کا پنشن گذارا پنشن پر ہے اور وہ دفتر کے چکر کاٹتی رہی۔ آخر کار میڈیا کے مختلف گوشوں میں انجماں کی کہانی شائع کی گئی جس کا از خود نوٹ لیتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن نے عہدیداروں پر برہمی کا اظہار کیا۔ر