ناجائز یہودی بستیوں کے اشتہارات ’میٹا‘ کیلئے منافع بخش

   

تل ابیب: مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ناجائز یہودی بستیوں کے فروغ اور یہودی آباد کاروں کی سرگرمیوں کے اظہار کے لیے ایک سو سے زائد اشتہارات ‘ میٹا’ کے لیے منافع بخش بن گئے ۔ یہ بات ‘ الجزیرہ ‘ نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہی ہے ۔ ‘ الجزیرہ ‘ کی یہ رپورٹ اسی ہفتے کے روز سامنے آئی ہے ۔ان اشتہارات میں مغربی کنارے میں گرین لائن کے مشرقی سمت میں 20 کلومیٹر میں واقع یہودی بستیوں میں جائیدادوں کی ترقی کے علاوہ فلسطینیوں کے مکانات، گھروں ، تعلیمی اداروں اور کھیل کے میدانوں تک کو فروخت و مسمار کرنے سے متعلق اشتہارات شامل ہیں۔علاوہ ازیں غزہ میں تعینات اسرائیلی فوجیوں کے یونٹس کے لیے عطیات جمع کرنے کے لیے بھی ‘ میٹا’ پر اشتہارات لگائے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ‘رامت ایڈریٹ ‘ سب سے اہم ادارہ ہے جو اشتہارات دیتا ہے ۔مالیاتی ڈیٹا کے بزنس سے متعلق ایک کمپنی کے مطابق 300 ملین ڈالر کی مالیت کی کمپنی نے اسرائیل کے پہلے بین الاقوامی بنک سے فنڈنگ حاصل کی ہے ۔اس کے علاوہ ‘گبائی ریئل اسٹیٹ ‘ کے بھی 48 اشتہارات انہی ناجائز یہودی بستیوں سے متعلق ہیں جو مغربی کنارے میں ہی واقع ہیں۔ کم از کم 52 ایسے اشتہارات ہیں کہ جو اسرائیلی ریئل اسٹیٹ سے متعلق کمپنیوں سے متعلق ہیں۔ ان اشتہاری کمپنیوں کا ہدف اسرائیل، برطانیہ اور امریکہ میں رہنے والے خریدار ہیں۔