روم: ماہرین فلکیات نے مشہور سائنس دان البرٹ آئن اسٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی کو استعمال کرتے ہوئے ’ناقابلِ دید کہکشاں (انوزیبل گلیکسی)‘ کی پہلی تصویر عکس بند کرلی۔بگ بینگ کے دو ارب سال بعد بننے والی یہ جرمِ فلکی انتہائی فاصلے کی وجہ سے مبہم تھی اور خلائی غبار میں چھپی ہوئی تھی جس کے سبب زمین پر موجود انتہائی طاقتور آلات سے بھی اس کا مشاہدہ نہیں کیا جاسکا۔آئن اسٹائن کی تھیوری کے مطابق حجم کی تقسیم گریویٹیشنل لینس کے طور پر عمل کرسکتی ہے جس سے روشنی مڑ سکتی ہے۔ اٹلی سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ فلکیات کی ٹیم نے پوشیدہ کہکشاں کا پس منظر دیکھنے کے لیے اس خیال کا استعمال کیا۔یہ دریافت اس کہکشاں کے متعلق مزید حقائق سامنے لائے گی اور دیگر پوشیدہ اجرامِ فلکیات کے مطالعے کے لیے نئی سوچ لانے میں مدد دے گی۔