نئی دہلی : ملک کے موجودہ حالات کے پس منظرمیں جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ ہندوستان میں صدیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے آئے ہیں، شہرہی نہیں گاؤں درگاؤں کہیں بھی جاکردیکھیں وہاں ہندواورمسلمان دونوں مل جل کر رہتے ہیں، مگربراہوفرقہ پرست ذہنیت کا، انہوں نے آج اپنی پرانی تاریخ کو آگ لگادینے کی ٹھان لی ہے ۔یہ بات انہوں نے مہاراشٹر کے سیلاب سے تباہ حال علاقہ مہاڈ میں جمعیۃ کی طرف سے بنائے گئے مکانات کی چابیاں تقسیم کرتے ہوئے کہی۔ آج یہاں جاری ریلیز کے مطابق انہوں نے کہاکہ ہم ان حالات کے اندربھی کھل کراپنی بات کہتے ہیں کیونکہ ہمارے دل دماغ میں ہندومسلم کی کوئی تفریق موجودنہیں ہے ، ہم بطورانسان بلاتفریق ہر مصیبت زدہ کی مددکرنا اپنے لئے باعث اطمینان سمجھتے ہیں اور ملک کی پرانی تاریخ کواپنے سامنے رکھتے ہیں۔انہوں نے زوردیکر کہاکہ ملک کو پیارومحبت کی طاقت سے ہی آزادکرایا گیاتھا، آزادی کے متوالوں نے جگہ جگہ اس کے لئے اپنا خون پانی کی طرح بہادیاتھا،آزادی کے لئے بہنے والایہ خون تنہاہندوکا نہیں تھا، تنہامسلمان کانہیں تھا، بلکہ یہ دونوں کا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ساتھ اسی پرانی تاریخ کولیکر چلتے ہیں جب تک زندہ ہیں چلتے رہیں گے ، نفرت کی سیاست کو نفرت سے نہیں مٹایاجاسکتابلکہ اسے پیارومحبت سے ہی ختم کیا جاسکتاہے اورمذہب کے نام پر کسی بھی طرح کا تشددقابل قبول نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ مذہب انسانیت، رواداری، محبت اوریکجہتی کا پیغام دیتاہے ، اس لئے جولوگ اس کا استعمال نفرت اورتشددبرپاکرنے کے لئے کرتے ہیں وہ اپنے مذہب کے سچے پیروکارنہیں ہوسکتے ہیں۔