کٹھمنڈو ۔ 26 ستمبر (ایجنسیز) نیپال میں تباہ کن سیلاب کے دوران ایک سرنگ میں پھنس جانے اور دس روز بعد زندہ بچائے جانے والے پن بجلی منصوبہ کے کارکن کبیر مہارجن نے اپنے ملک کی تعمیر نو میں حصہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ نیپال کے ایک ہائیڈرو پاور منصوبہ کیلئے کام کرنے والے 45 سالہ مہارجن تباہ کن سیلاب کی وجہ سے ایک سرنگ میں پھنس گئے تھے، جنہیں واقعہ کے دس روز بعد زندہ بچایا گیا۔ وہ کئی ہفتے کٹھمنڈو کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد جمعہ کو اپنے گھر واپس پہنچے، جہاں اہلِ خانہ نے روایتی موسیقی اور خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ دو بچوں کے والد مہارجن نے جذباتی انداز میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ زندگی بہت قیمتی ہے۔ سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے، لیکن میں زندہ بچ گیا۔ شاید مجھے ابھی اپنے معاشرے، ملک اور خاندان کے لیے مزید کام کرنا ہے۔ 26 اگست کو چین اور نیپال کی سرحد کے قریب ایک پہاڑی گلیشیئر کے منہدم ہونے سے آنے والے تباہ کن سیلاب میں 1400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت نیپالی شہریوں کی ہے۔ نیپال میں اب بھی پانچ ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں۔