Monday , October 21 2019

وادی میں خراب حالات خراب ہیں‘ خبریں باہر نہیں آرہی ہیں‘ کیونکہ نٹ اور فون بند کردئے گئے ہیں اور صحافیوں کو کرفیو پاس بھی جاری نہیں کئے جارہے ہیں‘

SRINAGAR, FEB 13 (UNI) A deserted view of Jamia Masjid closed for prayers in down town Nowhatta Srinagar as security personnel keepingvigil following a Joint Resistance Leadership of separatists called for a two day general strike in Kashmir valley begins Wednesday against any move to weaken the Article 35 A of the constitution which is scheduled to come up for hearing in Supreme Court this week. UNI SRN PHOTO 6

وہیں مقامی نیو پیپرس پر دباؤ ڈالاجارہا ہے کہ وہ صفحات میں کمی لائے‘ کشمیر پریس کلب کے جنرل سکریٹری اشفاق تانترے نے ہفتہ کے روز پریس کونسل آف انڈیااور بین الاقوامی صحافی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ”میڈیا پر حملے“ کے اس معاملے میں حکومت سے بات کریں

سری نگر۔ کشمیر میں صحافیو ں کی حمل ونقل پر تحدیدایت اور رابطے کے تمام راستوں پر امتناع بشمول پہلی مرتبہ فکس لائن فون سروسیس پر امتناع کے ساتھ‘

وادی میں اور وادی سے بہت ساری خبروں کی کمی پیش آرہی ہے۔

وہیں مقامی نیو پیپرس پر دباؤ ڈالاجارہا ہے کہ وہ صفحات میں کمی لائے‘

کشمیر پریس کلب کے جنرل سکریٹری اشفاق تانترے نے ہفتہ کے روز پریس کونسل آف انڈیااور بین الاقوامی صحافی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ”میڈیا پر حملے“ کے اس معاملے میں حکومت سے بات کریں۔تانترے نے کہاکہ ”مذکورہ انتظامیہ نے اس مرتبہ لینڈ لائن (فون) خدمات بھی بند کردئے ہیں۔

افسوس تویہ ہے کہ وہ میڈیا کو کرفیو پاس بھی جاری نہیں کررہے ہیں‘ اور اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ان کا مقصد کشمیر سے باہر خبر کو جانے سے روکا جاسکے۔

میں ضلع مجسٹریٹ سے رجوع ہوا تھا مگر انہوں نے اپنے دفتر میں (مجھ سے) ملاقات کرنے سے انکار کردیا“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”کرفیو پاس کی عدم موجودگی اور کمیونکشن کی عدم موجودگی میں یہ بین الاقوامی قومی او رمقامی میڈیا کے لئے کام کرنا مشکل ہے“۔

سری نگر نژاد انگریزی روزنامہ ”رائزنگ کشمیر“ کے ساتھ کام کرنے والے ایک صحافی نے کہاکہ ”بیس سے ہم نے اپنے نیوز پیپر کو چار صفحات پر لادیاہے۔

سری نگر کا عملہ بھی آفس پہنچنے سے قاصر ہے۔ یہاں پر کسی بھی صحافی کو کرفیو پاس جاری نہیں کیاگیاہے‘ اور اس سے ہمارا کام شدید طور پر متاثر ہورہا ہے“۔

نیوز اکٹھا کرنے کے ذرائع میں رکاوٹ کی وجہہ سے صحافیو ں کا کہنا ہے کہ وہ ٹیلی ویثرن پر نیوز دیکھ کراخبار کے لئے لکھ رہے ہیں۔

وادی نژاد ایک صحافی جو ایک قومی روزنامہ کے لئے کام کرتے ہیں انہوں نے کہاانٹرنٹ کو دیکھانے کے لئے انہوں نے کئی سرکاری عہدیداروں سے ملاقات کی مگر ”ہم سے کہاگیا کہ یہاں پر کوئی انٹرنٹ خدمات نہیں چل رہی ہیں“۔

کئی صحافی انٹرنٹ کے لئے پولیس کنٹرول روم پہنچے مگر ان میں سے بیشتر کو موقع نہیں دیاگیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف ٹی وی چیانلس ہی اپنے دفتر کو نیوز او بی ویان کے ذریعہ ارسال کرپارہے ہیں کیونکہ ان کا رابطہ سیٹلائٹ سے ہے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT