حقائق کے اظہار پر کے ٹی راما راؤ کی وزیر کو مبارکباد۔ حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 16 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے سچ بولنے پر ریاستی وزیر کونڈا سریکھا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں 30% کمیشن کی حکومت چلنے کی سرکاری طور پر توثیق ہوگئی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی یا قائد اپوزیشن لوک سبھا راہول گاندھی اس کی تحقیقات کرائیں۔ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ریاست میں کوئی بھی کام کمیشن کے بغیر نہیں ہورہا ہے۔ بی آر ایس اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات حکومت نے ہمیشہ مسترد کیا ہے، لیکن اب ایک ذمہ دار ریاستی وزیر کونڈا سریکھا نے خود اعتراف کیا ہے کہ جب تک کمیشن نہیں دیا جاتا، کوئی بھی وزیر فائل پر دستخط نہیں کررہے ہیں۔ تھوڑے ہی سہی کونڈا سریکھا نے حقائق کو منظر عام پر لایا ہے جس کیلئے میں اُن کی حوصلے کی ستائش کرتا ہوں۔ ریاست میں کانگریس حکومت قائم ہونے کے بعد کرپشن عام ہوچکا ہے۔ جس کی زندہ مثال کنٹراکٹرس کی جانب سے سیکریٹریٹ میں کیا گیا احتجاج ہے۔ کنٹراکٹرس نے کمیشن کے بغیر بلس جاری نہ کرنے کا حکومت پر الزام لگایا تھا۔ اب تک یہ معاملہ خفیہ تھا، لیکن اب وزیر کے اعتراف کے بعد یہ ’اوپن سیکرٹ‘ بن گیا ہے۔ ریاست میں وزراء کسی بھی فائل پر دستخط کیلئے 30% کمیشن حاصل کررہے ہیں۔ کے ٹی آر نے ریاستی وزیر کونڈا سریکھا سے اپیل کی کہ کونسے وزراء فائیل پر دستخط کرنے کیلئے کمیشن حاصل کررہے ہیں، اس کی تفصیلات بھی عوام کو بتائیں۔ ساتھ ہی چیف منسٹر ریونت ریڈی اور راہول گاندھی بھی کونڈا سریکھا کی حق بیانی کی تحقیقات کرائیں۔ بی آر ایس لیڈر نے کہا کہ کانگریس حکومت عدوں کی تکمیل میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے اور سابق بی آر ایس حکومت کو ریاست کو مقروض کردینے کا الزام عائد کرکے ترقیاتی، فلاحی اور دیگر کاموں کیلئے کمیشن حاصل کررہی ہے۔ بی آر ایس نے کئی مرتبہ ایسے الزامات عائد کئے تھے، لیکن آج حکمران پارٹی کے وزیر ہی نے الزامات کو درست ٹھہرا دیا ہے۔2