جرمنی کی ترقی میں ہندوستانیوں کی حصہ داری کی ستائش
نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی جرمن چانسلر اولاف شولز کی دعوت پر 26۔27 جون کو ہونے والے G7 چوٹی اجلاس میں شرکت کے لیے جرمنی پہنچ گئے ہیں۔ وزیر اعظم مودی اتوار کی صبح جرمنی پہنچ گئے۔ اس دوران وزیراعظم نریندر مودی کا ایئرپورٹ پر روایتی بینڈ کی دھن کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی کانفرنس کے دوران اہم عالمی چیلنجز بشمول یوکرین تنازعہ، انڈو پیسیفک خطے کی صورتحال، خوراک اور توانائی کی سلامتی، آب و ہوا پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر اعظم کا روایتی بینڈ کے ساتھ جرمنی میں مقیم ہندوستانیوں نے خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے جرمنی کی ترقی میں ہندوستانیوں کے حصہ داری کی ستائش کی۔ ادھر خارجہ سکریٹری ونے کواترا نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی 28 جون کو متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے جہاں وہ ذاتی طور پر متحدہ عرب امارات کے سابق صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان کے انتقال پر انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ G7 چوٹی اجلاس میں یوکرین کے بحران کے معاملے پر ہندوستان کا کیا موقف رہے گا۔ کواترا نے کہا کہ ہندوستان کا موقف اس وقت سے واضح ہے جب یوکرین کا بحران شروع ہوا تھا کہ جلد از جلد جنگ بندی ہونی چاہئے اور مسئلہ کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے خوراک، توانائی کی حفاظت، مصنوعات کی افراط زر، یوکرین کے بحران کی وجہ سے عالمی سپلائی چین میں خلل سے متعلق مسائل پر مختلف فورمس پر ا پنے موقف کو واضح کیا ہے۔ کواترا نے کہا کہ عالمی فورمس پر ہندوستان کا موقف ہندوستان کے مفادات اور اس کے اصولوں سے طے ہوتا ہے اور اس میں کوئی شک یا ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے۔ G7 گروپ دنیا کے سات امیر ترین ممالک کا ایک گروپ ہے جس کی سربراہی اس وقت جرمنی کر رہا ہے۔ اس گروپ میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ شامل ہیں۔ سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ G7 سربراہی اجلاس جرمنی کی صدارت میں منعقد کیا جا رہا ہے جس میں ارجنٹائن، انڈونیشیا، سینیگال، جنوبی افریقہ جیسے ممالک کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔