وقف ترمیمی قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر نمائندگی کی جائے

   

سماج کے ہر طبقہ سے مولانا خسرو پاشاہ کی اپیل
حیدرآباد۔/10ستمبر، ( سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی مولانا غلام افضل بیابانی خسرو پاشاہ نے مرکزی حکومت کے وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف پارلیمانی ورکنگ کمیٹی سے بڑے پیمانے پر نمائندگی کی اپیل کی ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا خسرو پاشاہ نے کہا کہ مجوزہ وقف ترمیمی بل 2024 نہ صرف مسلمانوں بلکہ وقف جائیدادوں پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ اسلام میں وقف کی شرعی حیثیت ہے اور حکومت کو اوقافی امور میں مداخلت کا اختیار نہیں۔ مجوزہ قانون کے ذریعہ مرکزی حکومت اوقافی جائیدادوں کی تباہی کی سازش کررہی ہے اور وہ اوقافی امور میں مداخلت کی خواہاں ہے۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی مشترکہ پارلیمانی ورکنگ کمیٹی سے بل کے خلاف نمائندگی کیلئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے QR کوڈ جاری کیا ہے جس کے ذریعہ عامۃ المسلمین وقف بل کے خلاف اپنی رائے پیش کرسکتے ہیں۔ صدر تلنگانہ درگاہ اسوسی ایشن کے طور پر وقف بل کی مخالفت میں مشترکہ ورکنگ کمیٹی سے نمائندگی کی گئی ہے۔ انجمن سجادگان و متولیان کی جانب سے بھی پارلیمانی ورکنگ کمیٹی سے نمائندگی کی گئی۔ مولانا خسرو پاشاہ نے کہا کہ ورکنگ کمیٹی سے نمائندگی کرنے کیلئے محض تین دن باقی ہیں لہذا سماج کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے موبائیل کے ذریعہ مجوزہ بل کے خلاف اپنی رائے پیش کریں۔ انہوں نے ائمہ مساجد سے اپیل کی کہ جمعہ کے خطبہ کے موقع پر تقاریر میں وقف ترمیمی بل کے نقصانات سے نوجوان نسل کو واقف کرائیں اور انہیں موبائیل فون کے ذریعہ پارلیمانی کمیٹی تک اپنی رائے پیش کرنے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے مساجد کمیٹیوں، دینی مدارس کے ذمہ داروں، مختلف مسالک کے قائدین، سیاسی و غیر سیاسی سرگرم کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ وقف ترمیمی بل کے خلاف پارلیمانی کمیٹی تک اپنی مخالفت کو پہنچائیں۔1