ووٹوں کی تقسیم روکنے کے لئے یوپی میں ایس پی ‘ بی ایس پی ‘ آرایل ڈی نے شروع کی مہم

Samajwadi Party National President Akhilesh Yadav greeting to Bahujan Samaj Party Supreemo Mayawati on the occassion of her 63rd Birthday in Lucknow on Tuesday.Express photo by Vishal Srivastav 15.01.2019

لکھنو۔ اترپردیش میں بی جے پی سے مقابلے کے لئے ایس پی ‘ بی ایس پی ‘ آر ایل ڈی اتحاد کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا ہے۔ لوک سبھا الیکشن 2019میں ووٹ کی تقسیم کو روکنا ان کے لئے اہمیت کا حامل ہے ۔ اس لئے تینوں پارٹیاں ایک ساتھ انتخابی پلیٹ فارم پر آنے کی کوشش کررہی ہیں۔

اترپردیش میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایس پی کاووٹ پوری طرح سے بی ایس پی یا آر ایل ڈی کے امیدوار کو منتقل ہوجائے۔

اس وقت مغربی اترپردیش کی اٹھ لوک سبھا سیٹوں پر پہلے مرحلے میں 11اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

اس لئے تینوں پارٹیاں ان ہی سیٹوں پر توجہہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ لوک سبھا الیکشن 2019کے لئے ملک میں سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کی 80سیٹوں کے لئے گھمسان ہوگا۔

پچھلے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے 80میں سے 73سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔

بی جے پی اس مرتبہ ریاست میں زیادہ سیٹیں جیتنے کے زور لگارہی ہے ‘ جبکہ ریست کے تین اہم اپوزیشن پارٹیاں عظیم اتحاد کے ذریعہ بی جے پی کو ٹکر دینے کی تیاری کررہے ہیں۔

ایس پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا’’پہلے مرحلے میں ہم نے ہر لوک سبھا سیٹ کی مناسبت سے تینوں پارٹیوں کے سبھی کارکنوں کے ساتھ میٹنگ کی ہے‘‘۔

ایس پی نے اپنے سینئر قائدین کو اسمبلی سیٹو ں کی مناسبت سے ذمہ داری دی ہے۔ اب ایس پی لیڈران رائے دہندوں سے مل کر اپنی حکمت عملی سمجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کی مدد سے وہ عظیم اتحاد کی دیگر پارٹیوں سے تال میل بنانا چاہتے ہیں۔

لوک سبھا الیکشن 2019کے لئے عظیم اتحاد نے ایک مشترکہ نعرہ بھی دیاہے کہ ’’ ایک بھی ووٹ بٹنے نہیں دیں گے‘ ایک بھی ووٹ گھٹنے نہیں دیں گے‘‘۔

یہ نعرے ایس پی صدر اکھیلیش یادو کے دماغی کھیل کی نتیجہ ہے۔مجوزہ لوک سبھا الیکشن میں پارٹی کیڈر کو اس مرتبہ چوکنا کرنے اور گٹھ بندھن کے ساتھی دلوں کی حمایت میں اپنے ووٹ کو منتقل کرنے کی حکمت عملی ہے

TOPPOPULARRECENT