او بی سی ۔ اے اور او بی سی ۔ بی کی درجہ بندی کا اب کوئی وجود نہیں ، کلکتہ ہائیکورٹ کا فیصلہ
کولکاتہ، 12 اگست (یو این آئی) کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں مغربی بنگال کی سابقہ ترنمول کانگریس حکومت کے ضوابط کے تحت جاری کردہ تمام او بی سی سرٹیفکیٹس کو منسوخ کر دیا ہے ۔ یہ سرٹیفکیٹس او بی سی-اے اور او بی سی-بی زمروں کے تحت جاری کیے گئے تھے ۔ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کے روز اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ او بی سی-اے اور او بی سی-بی کی درجہ بندی کا اب کوئی وجود نہیں ہے ۔ جسٹس راج شیکھر منتھا اور جسٹس انوج سنگھ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کہا کہ اس درجہ بندی کے تحت جاری کردہ سرٹیفکیٹس اپنی قانونی حیثیت کھو چکے ہیں۔او بی سی زمروں سے متعلق یہ تنازع سال 2010 کے بعد اُس وقت سامنے آیا جب ریاستی حکومت نے او بی سی برادریوں کو دو زمروں او بی سی-اے اور او بی سی-بی میں تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد او بی سی سرٹیفکیٹس کے اجراء میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ۔اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے بعد 2024 میں ہائی کورٹ نے او بی سی فہرست میں 66 برادریوں کو شامل کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور ان کے سرٹیفکیٹس منسوخ کر دیے ۔ عدالت نے اس وقت ریاستی حکومت کو نیا سروے کرانے اور نئی فہرست تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔اس وقت کی ریاستی حکومت نے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، لیکن سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت کی ہدایات کے بعد ریاست نے نیا سروے کرایا اور او بی سی-اے اور او بی سی-بی کی فہرستوں میں ترامیم کیں۔تاہم، ہائی کورٹ نے اس پورے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ۔ عدالت کا موقف تھا کہ یہ سروے صرف تقریباً 2,500 سیمپلز پر مبنی تھا اور اسی کی بنیاد پر بعد میں 142 برادریوں کو او بی سی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے ان ریمارکس کے خلاف دوبارہ سپریم کورٹ کا رخ کیا، لیکن اس بار بھی ریاستی حکومت کو کوئی ریلیف نہیں مل سکی۔ نتیجے کے طور پر ترمیم شدہ قوانین کے تحت او بی سی سرٹیفکیٹس کے اجراء کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت برسرِ اقتدار آنے کے بعد اس معاملے کی قانونی حیثیت یکسر تبدیل ہو گئی۔ مسٹر شوبھیندو ادھیکاری کی قیادت میں بننے والی نئی حکومت نے او بی سی-اے اور او بی سی-بی کی درجہ بندی کو ختم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ریاست میں صرف ایک واحد او بی سی ریزرویشن کیٹیگری ہوگی۔اس کے ساتھ ہی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی اُس درخواست کو بھی سپریم کورٹ سے واپس لے لیا جو پچھلی ممتا حکومت نے دائر کی تھی۔ چیلنج پٹیشن واپس لیے جانے کے بعد، ٹی ایم سی حکومت کے ترمیم شدہ نظام کے تحت جاری کیے گئے تمام سرٹیفکیٹس کی قانونی بنیاد ختم ہو گئی، جس کے نتیجے میں آج ہائی کورٹ نے یہ حتمی حکم سنایا۔اس فیصلے کا براہِ راست اثر اُن افراد پر پڑنے کا امکان ہے جنہوں نے سپریم کورٹ میں معاملے کی سماعت کے دوران اور اس کے بعد درخواست دے کر نئی درجہ بندی والے او بی سی سرٹیفکیٹ حاصل کیے تھے ۔i/y