فرنٹ کے ذریعہ سماجی خدمات کا ریکارڈ ، آر ایس پروین کمار کا بیان
حیدرآباد۔28 ۔ستمبر(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر عائد کی گئی پابندی جمہوری اصولوں کے مغائر ہے اور اس کی مخالفت کی جانی چاہئے ۔ مسٹر آر ایس پروین کمار ریٹائرڈ آئی پی ایس وصدر بہوجن سماج پارٹی تلنگانہ نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی عائد کئے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ہند میں انسانی حقوق بالخصوص مسلمانوں کے درمیان شعور اجاگر کرنے کے علاوہ ان کے جائز حقوق کے متعلق انہیں آگاہ کرنے والی تنظیم پر جو پابندی عائد کی گئی ہے وہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کو آر ایس ایس پر بھی پابندی عائد کرنی چاہئے کیونکہ آر ایس ایس اور ہندو توا نظریات کی حامل کئی محاذی تنظیموں کی جانب سے ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔ مسٹر آر ایس پروین کمار نے کہا کہ ملک میں 28 ریاستیں ہیں لیکن مرکزی حکومت نے محض بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار والی تین ریاستوں کی سفارشات کو بنیاد بناتے ہوئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروین کمار نے ذرائع ابلاغ کے لئے جاری کئے گئے اپنے بیان میں کہا کہ جن ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر حکومت ہند نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ثبوت و شواہد مشتبہ ہیں ۔انہوں نے حکومت ہند کی پی ایف آئی کے خلاف اس کاروائی کا قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن تین ریاستوں کی سفارشات کی بنیاد پر یہ کاروائی کی گئی ہے ۔ آر ایس پروین کمار نے حکومت ہند سے استفسار کیا کہ مالیگاؤں ‘ سمجھوتہ ایکسپریس ‘ درگاہ شریف اجمیر اور مکہ مسجد میں ہونے والے بم دھماکوں میں کون ملوث ہیں سب جانتے ہیں کیا حکومت ان کے خلاف بھی کاروائی کرتے ہوئے آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے کے اقدامات کرے گی! انہوں نے بتایا پاپولر فرنٹ آف انڈیا ہندستانیوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان میں قانونی شعور اجاگر کرنے کے علاوہ کئی ایک سماجی خدمات کا ریکارڈ رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود اس تنظیم اور اس کی محاذی تنظیموں کے خلاف عائد کی جانے والی پابندی اور اس تنظیم سے تعلق رکھنے والوں کی گرفتاریاں قابل مذمت ہے۔م