پرانے شہر میں میٹرو ریل کا کل سنگ بنیاد

   

چیف منسٹر شہر میں آئندہ 3 دنوں میں مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح کریں گے

حیدرآباد۔6۔مارچ۔(سیاست نیوز) چیف منسٹرتلنگانہ اے ریونت ریڈی آئندہ تین یوم کے دوران دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں ترقیاتی کاموں کے سنگ بنیاد رکھیں گے اور جو کام مکمل ہوئے ہیں ان کا افتتاح انجام دیں گے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی7 مارچ کو جمخانہ میدان سکندرآباد سے آؤٹر رنگ روڈ کے لئے نئی 6 ٹریک سڑک کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے ۔ 8 مارچ کو اے ریونت ریڈی پرانے شہر میں میٹرو ریل راہداری کے کاموں کا سنگ بنیاد رکھیں گے حلقہ اسمبلی کاروان کے علاقہ ابراہیم باغ میں ٹمریز اسکول کی عمارت کا افتتاح انجام دیں گے ۔علاوہ ازیں دیگر ترقیاتی کاموں کا افتتاح انجام دیں گے۔ 9 مارچ کو وہ ایک اور 6 ٹریک سڑک کے توسیعی کاموں کا پیراڈائز جنکشن پر سنگ بنیاد رکھیں گے۔ مرکزی محکمہ دفاع کی جانب سے کنٹونمنٹ کی اراضی کی ریاست تلنگانہ کو حوالگی کے بعد حکومت کی جانب سے فوری طور پر نئی سڑکوں کی تعمیر اور توسیع کے اقدامات کا آغاز کیا جا رہاہے اور 7 مارچ کو چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے ہاتھوں جمخانہ میدان تا آؤٹر رنگ روڈ جنکشن نزد شاہ میر پیٹ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور اس کے علاوہ 6ٹریک ہائی وے پیرڈائز جنکشن تا آؤٹر رنگ روڈ جنکشن نزد کندلا کایہ جو قومی شاہراہ نمبر 44 کو پہنچتی ہے اس کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ حکومت نے دونوں نئی سڑکوں کی تعمیر و توسیعی منصوبہ کیلئے 9000کروڑ کا تخمینہ لگایا ہے جس میں حصول جائیداد کی رقم شامل نہیں ہے۔ حکومت تلنگانہ کو محکمہ دفاع کی جانب سے دفاعی اراضی حوالہ کرنے کے فوری بعد چیف منسٹر نے ان دونوں سڑکوں کی تعمیر کے سلسلہ میں تخمینہ اور تفصیلی پراجکٹ رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی تھی اور ان دونوں مصروف ترین سڑکوں کا آئندہ تین یوم کے دوران سنگ بنیاد رکھتے ہوئے تعمیری کاموں کا آغاز کردیا جائے گا۔ چیف منسٹر جمعہ کو املی بن بس اسٹیشن تا فلک نما میٹرو ریل راہداری کا پرانے شہر کے علاقہ فلک نما (فاروق نگر) میں سنگ بنیاد رکھیں گے اس کے علاوہ دونوں شہروں میں مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح انجام دیں گے۔ پیراڈائز جنکشن اور جمخانہ میدان سے تعمیر کی جانے والی اس سڑک کی تعمیر کے بعد پیراڈائز تا میڑچل اور جوبلی بس اسٹیشن سے شاہ میر پیٹ جانے والی ٹریفک کے مسائل حل ہونے کے علاوہ ان نئی راہداریوں سے قومی شاہراہ نمبر 1 اور قومی شاہراہ نمبر 44 پہنچنے والی گاڑیوں کو بھی سہولت حاصل ہوگی اور ان علاقوں میں پائے جانے والے ٹریفک مسائل کا مستقل خاتمہ ہوجائے گا۔ سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ اس راہداری پر برجس کی تعمیر کا بھی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔3