نئی دہلی : کانگریس کو بہار میں اقتدار کی کرسی تک لے جانے کیلئے راہول گاندھی نے ایک بار پھر دلت ووٹوں کو مضبوط کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے لیے انھوں نے دلت برادری کے کئی اہم چہروں کو اپنے مشن کے لیے جوڑا ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر رتن لال کا تعلق بہار سے ہے اور ان کا تعلق بھی دلت برادری سے ہے۔ وہ دلتوں میں راہول کے لیے جگہ بنانے کے مشن میں مصروف ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ملک کی مختلف ریاستوں میں راہول گاندھی کے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔کانگریس لیڈر راہول نے22 دن پہلے بہارکا دورہ کیا تھا، اس وقت اس موقع پر سماجی انصاف کے مسئلہ سے متعلق پروگرام تھا۔ انہوں نے18 جنوری کو پٹنہ میں ‘آئین کے تحفظ’ پروگرام میں حصہ لیا۔ اس دوران راہول نے درج فہرست ذات اور پسماندہ طبقے کے لوگوں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے ریزرویشن کی 50 فیصد حدکو توڑنے کا مسئلہ بھی اٹھایا تھا۔ بہار میں راہول گاندھی کے پروگرام کے بعد پسماندہ مسلم مہاج کے لیڈر، سابق ایم پی علی انورانصاری اور دشرتھ مانجھی کے بیٹے نے کانگریس میں شمولیت اختیارکی۔
دشرتھ مانجھی کا تعلق دلت برادری کی مسہر ذات سے ہے۔ اس طرح کانگریس ایک بار پھر دلتوں اور پسماندہ ذاتوں کے درمیان اپنے سیاسی قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے جو اس کا بنیادی ووٹ بینک ہیں۔بہار میں کانگریس کی حکمت عملی نے دیگر جماعتوں کیلئے حالات مشکل کرنا شروع کردیا ہے ۔ راہول گاندھی پرائیویٹ کمپنیوں اور حکومت میں اہم عہدوں پر دلت-پسماندہ اور قبائلی برادریوں کی شمولیت کا مسئلہ مسلسل اٹھا رہے ہیں۔