پلوامہ حملہ کے بعد مختلف نقطہ نظر رکھنے والے صحافیوں کا دھمکیاں 

نئی دہلی: دہلی جرنلسٹ یونین ، انڈین وومین پریس کور ، پریس کلب آف انڈیا اور پریس ایسو سی ایشن نے فیس بک ، ٹوئیٹر او ردیگر سوشل سائٹس پر خواتین صحافیوں کو ہراساں ، بد نام کرنے اور دھمکی دئے جانے کے مسلسل واقعات پر سخت غصہ او رتشویش کا اظہار کیا ہے ۔ میڈیا تنظیموں نے اپنے بیان میں خواتین صحافیوں کو ہراساں کئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ٹوئیٹر او رفیس بک سے ان سائٹس پر گالی گلوج کرنے او رہراساں کرنے والوں کے خلاف ایک واضح پالیسی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ دہلی جرنلسٹ یونین کی جنرل سکریٹری سجاتا مدھو نے اپنے بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر رپورٹ او رخیالات کا اظہار کرنے پر مرد و خواتین دونوں صحافیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے یہ ایک انتہائی قابل مذمت حرکت ہے ۔

صحافی خواتین کو سوشل میڈیا پر ان کو بدنام کرنے کیلئے انہیں طوائف او رگندی گالیوں کے ساتھ ساتھ انہیں قتل او رعصمت ریزی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ حال ہی میں معروف صحافی برکھادت کونشانہ بنائے جانے کا معاملہ منظر عام پر آیا ۔ انہوں نے ٹوئٹر پر یہ ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سبھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو فوری طور پر اپنے پلیٹ فارم کے غلط استعمال ک روکنا چاہئے۔ انہوں نے ٹوئیٹر اپنے ساتھ ہوئے برے رویہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ برسوں سے ٹوئیٹر پر انہیں بدنام او رگالی گلوج دینے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور میری ایک شکایت پر بھی تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ برکھادت ٹوئیٹر پر جنسی ہراسانی او رتشدد کو متحرک کرنے والے کے طور پر خود کو بے نقا ب کرلیا ہے ۔

انڈین وومین پریس کور ، پریس کلب آف انڈیا اورپریس ایسو سی ایشن نے پلوامہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد کشمیری طلبہ کو ہراساں کئے جانے کے خلاف تبصرہ کرنے پر صحافی خواتین کونشانہ بنائے جانے کی سخت مذمت کی ہے ۔ اور انہیں جان سے ماردینے کی دھمکی او رعصمت ریزی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں ۔ میڈیا تنظیموں نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے شر پسندعناصر کی شناخت کی جائے او ران پر مقدمہ عائد کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT