شکایتوں کی یکسوئی میں کاہلی، کمشنر پولیس کی ہدایت بھی نظر انداز
حیدرآباد 14 مارچ (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ پولیس سفارشات اور سیاسی دباؤ کے تحت کام کررہی ہے جبکہ انسپکٹران پولیس کو کمشنر پولیس و دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی انھیں قانون کی ہی کوئی پرواہ اور اپنے عہدہ کا پاس و لحاظ دکھائی دیتا ہے۔ ان دنوں ایسے سنگین الزامات کا سامنا کررہی حیدرآباد سٹی پولیس کے حالات کمشنر پولیس کے لئے بہتر خدمات کے دعوؤں پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ چونکہ شہریوں کی جانب سے جو الزامات لگائے جارہے ہیں اِن الزامات پر پولیس کے کچھ عہدیدار کھرے اُترتے ہیں۔ پرانے شہر کے علاقہ ساؤتھ زون میں شاہ علی بنڈہ اور ساؤتھ ایسٹ زون میں چادرگھاٹ پولیس ان دنوں سنگین الزامات کا سامنا کررہی ہے۔ پولیس پر اپنی مرضی اور سیاسی قائدین کے دباؤ کے آگے مجبور ہوکر خدمات انجام دینے کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ شاہ علی بنڈہ پولیس کی شان ہی نرالی ہے۔ آئے دن پولیس اسٹیشن کسی نہ کسی مسئلہ میں سرخیوں میں رہتا ہے۔ گزشتہ دن اس پولیس اسٹیشن میں ایک شہری نے شکایت درج کرائی۔ شدید زخمی حالت میں پولیس سے رجوع ہونے والے شہری کا فرسٹ ایڈ اور ایم ایل سی بھی نہیں کروایا گیا۔ سید اکبر حسین نامی شہری جو قاضی پورہ علاقہ کا ساکن ہے، خاندانی جھگڑوں میں جان لیوا حملہ کی شکایت لے کر پولیس اسٹیشن پہونچا۔ حالانکہ سید اکبر نے 26 جنوری کو بھی اس مسئلہ پر ایک شکایت درج کرواتے ہوئے جان کو خطرہ لاحق قرار دیا تھا اور اپنے رشتہ داروں کے خلاف شکایت درج کرتے ہوئے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی لیکن شاہ علی بنڈہ پولیس نے اس معاملہ میں کچھ نہیں کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ مخالفین کے حوصلے بلند ہوگئے اور انھوں نے کل گھر میں داخل ہوکر حملہ کیا۔ سید اکبر کے رشتہ داروں نے کہاکہ سید اکبر پر حملہ کرنے والوں میں ایک ریٹائرڈ پولیس سب انسپکٹر بھی ہے جس کے سبب پولیس پر کارروائی سے گریز کرنے اور وقت گزارنے کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ شاہ علی بنڈہ پولیس میں آئے دن ایسے واقعات عام بات ہے اور معاملہ فہمی کے علاوہ اکثر معاملات پولیس اسٹیشن کے باہر طے ہوجاتے ہیں۔ جبکہ چادرگھاٹ پولیس پر سیاسی دباؤ کے آگے مظلومین کے ساتھ ناانصافی کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ضعیف شہری کو خود اپنے مکان کا کرایہ حاصل کرنے کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک انسانیت سوز ویڈیو منظر عام پر آیا جس کا پولیس نے بھی مشاہدہ کیا اور اس سلسلہ میں ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کو انجام دیا جو برائے نام ثابت ہورہی ہے۔ حالانکہ اس معاملہ میں اصل خاطی کو بچانے اور سیاسی دباؤ کے آگے کام کرنے کا چادرگھاٹ پولیس پر الزام پایا جاتا ہے۔ حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے پولیس پر پائے جانے والے الزامات کا جائزہ لینے اور مؤثر اقدامات انجام دیتے ہوئے سٹی پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں۔ ع