نئی دہلی ۔19؍مئی ( ایجنسیز) پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آج ایک بار پھرزبردست اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تیل کمپنیوں نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 90 پیسے فی لیٹر تک کا اضافہ کیا ہے۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ محض ایک ہفتے کے دوران اس طرح کا یہ دوسرا اضافہ ہے۔تازہ ترین اضافے سے صرف 3 دن پہلے جمعہ کو ہی مرکزی حکومت نے ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا تھا۔ دہلی کے علاوہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے پیچھے بین الاقوامی عوامل ایک بڑی وجہ بتائے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مغربی ایشیا کے ممالک میں جاری تنازعات اور جنگ نے دنیا بھر میں توانائی کا بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس تنازعہ نے آبنائے ہرمز کو تقریباً مسدود کر دیا ہے جو سمندری تجارت کیلئے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے۔ خام تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ رہی ہیں حالانکہ امریکہ اور ایران خطے میں طویل مدتی جنگ بندی پر بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ 3 دن پہلے جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا تھا تب وزارت پٹرولیم نے کہا تھا کہ اس اضافے کے بعد کمپنیوں کا یومیہ نقصان تقریباً 25 فیصد کم ہو کر 750 کروڑ روپے رہ گیا ہے۔ اس سے پہلے یہ تقریباً 1,000 کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ کمپنیاں اخراجات کا بوجھ صارفین سے وصول کریں گی۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما کے مطابق تیل کمپنیوں کے نقصانات کی تلافی کیلئے کوئی راحت پیکج یا سبسڈی دینے پر غور نہیں کیا جا رہا ہے۔