ڈاکٹر سید حسام الدین
اﷲ رب العزت آنحضرت ﷺ کو اُس کی وحدانیت اور احکام کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے نبی بناکر دنیا میں بھیجا ۔ آپؐ اﷲ کے آخری نبی اور قرآن مجید آخری آسمانی کتاب ہے ۔ سرکارِ دوعالم ﷺ نے بعثت سے لیکر وفات تک ساری زندگی اسلام کی تبلیغ و ترویج میں گذاردی حتیٰ کہ اپنے آخری حجۃ الوداع میں اﷲ سبحان تعالیٰ کو گواہ رکھ کر تکمیل دین کا اعلان کیا ۔ اس خطبہ کو سننے کے لئے موجود جمع کثیر نے بھی اِس بات کی گواہی دی ۔ سرکارِ دوعالم ﷺ کے بعد خلفائے راشدین و صحابہ کرام نے دین مبین کے استحکام اور اس کی ترویج کیلئے اس ذمہ داری کو اپنے سر لیا ۔ خلفاء کے بعد اشاعت دین کا منصب تابعین ، تبع تابین ، مصلحین ، مجددین اور صوفیاء کے ذریعہ جاری رہا اور یہ سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں تاقیامت جاری رہے گا ۔ اس خصوص میں پیرانِ پیر حضرت غوث آعظم دستگیرؒ کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حضرت پیرانِ پیر کا لقب محی الدین ہے یعنی دین کو زندہ کرنے والا۔ آپؒ کی ولادت باسعادت ۲۹ ؍ شعبان المعظم ۴۷۰ ھ م ۱۰۷۵ ء کو عراق کے ایک مقام جیلان میں ہوئی ۔ آپؒ کے والد حضرت سید ابوصالح موسیٰ جنگی دوست اور والدہ ماجدہ حضرت اُم الخیر فاطمہ تھیں۔ آپؒ کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے حضرت حسنؓ اور والدہ کی طرف سے حضرت حسینؓ سے جاملتا ہے۔ اس طرح آپؒ حسنی اور حسینی سید تھے۔ گویا سلسلہ سادات میں نجیب الطرفین تھے ۔
جس رات آپؒ کی ولادت ہوئی اس رات آپؒ کے والد ماجد حضرت سید ابوصالح کے خواب میں حضور سرورِ کائنات فخر موجودات حضرت محمد مصطفی ﷺ تشریف لاکر فرمایا اور بشارات سے نوازا ’’اے ابو صالح ! اﷲ نے تم کو ایسا فرزند عطا فرمایا ہے وہ ولی ہے ، وہ میرا بیٹا ہے ، وہ میرا اور اﷲ تعالیٰ کا محبوب ہے اور عنقریب اس کی اولیاء اور اقطاب میں وہ شان ہوگی جو انبیاء اور مرسلین میں میری شان ہے ‘‘۔ حضرت غوثِ پاکؒ ایک روز منبر پر تشریف فرما خطبہ دے رہے تھے کہ دوران خطبہ ایک لخت آپؒ پر حالت کشف طاری ہوئی اور آپؒ نے اﷲ کے حکم سے ارشاد فرمایا : ’’میرا قدم ہر ولی اﷲ کی گردن پر ہے ‘‘ ۔ مجلس وعظ میں جتنے بھی مشائخین اور علماء تھے ، آپؒ کا ارشاد سن کر سبھوں نے اپنی گردن خم کردی ۔ نہ صرف حاضرین محفل وعظ بلکہ کرہ ارض پر جہاں جہاں کوئی قطب ، ابدال یا ولی تھا جس نے بھی آپ کی آواز سنی اپنی گردن جھکادی ۔ جب شیخ عبدالقادر جیلانی کی عمر ۱۸ سال کو پہنچی والدہ ماجدہ سے اجازت حاصل کرکے بغرض تحصیل علوم ظاہری و باطنی بغداد شریف میں جلوہ افروز ہوئے ۔ بغداد شریف میں آپؒ اُس وقت کے جید اور علماء کی شاگردی میں مختلف علوم علم قرأت ، علم تفسیر ، علم حدیث ، علم فقہ ، علم لغت ، علم شریعت ، علم طریقت وغیرہ میں دسترس حاصل کی ۔ حضرت پیرانِ پیرؒ جس وقت بغداد میں تشریف فرما تھے اُس وقت ایک جید عالم دین حضرت قاضی ابوسعید مبارک مخزومی کا کافی شہرہ تھا چنانچہ حضرت محبوب سبحانی ؒ قاضی ابوسعید مبارک مخزومی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اُن کے ہاتھوں بیعت کرکے حلقۂ ارادات میں شامل ہوگئے ۔ شیخ ابوسعید مبارک کو اپنے اس عظیم المرتبت مرید پر بے انتہا ناز تھا ۔… جاری ہے