پی ایف آئی کیخلاف دوبارہ دھاوے، 247 گرفتاریاں

,

   

نئی دہلی : اسلامی تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے سرکردہ قائدین اور کارکنوں کے خلاف ایک سے زیادہ ایجنسیوں کے دھاوؤں کے چند روز بعد آج ملک گیر سطح پر کارروائی کا دوسرا مرحلہ دیکھنے میں آیا جس میں کئی گرفتاریاں کی گئیں۔ ابھی تک 247 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ تحقیقاتی اداروں نے مدھیہ پردیش، کرناٹک، آسام، دہلی، مہاراشٹرا، تلنگانہ، گجرات اور اترپردیش میں آج بیک وقت کارروائیاں کیں۔ پی ایف آئی پر دہشت گردی کے لئے فنڈس فراہم کرنے، مسلم نوجوانوں کو ہتھیاروں کی تربیت دینے اور اُنھیں کٹر پسند بناکر دہشت گرد تنظیموں میں شامل کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ کارروائی بتایا جاتا ہے کہ قومی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے) کی فراہم کردہ انٹلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے نظام آباد، جامعہ، شاہین باغ اور وسطی دہلی کے بشمول کئی مقامات پر مشترکہ اور مربوط کارروائی میں حصہ لیا۔ قومی دارالحکومت میں ابھی تک 30 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں جو کسی بھی ریاست میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ گزشتہ رات دیر گئے تھانے کرائم برانچ نے ممبئی کے مضافات سے 4 پی ایف آئی کارکنان کو حراست میں لیا جن پر مختلف برادریوں کے درمیان عداوت کو بڑھاوا دینے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اُن کے خلاف ملک سے جنگ چھیڑنے کا سنگین الزام بھی عائد کیا جارہا ہے۔ مہاراشٹرا میں اورنگ آباد اور شولاپور میں بھی دھاوؤں کی اطلاعات ہیں۔ کرناٹک میں مقامی پولیس نے صبح سویرے دھاوا کرتے ہوئے زائداز 40 پی ایف آئی ارکان کو تحویل میں لے لیا۔ ریاست میں اضلاع باگل کوٹ، بیدر، چمراج نگر، چتردرگ، منگلورو، بیلاری، بنگلورو، میسورو اور وجئے پورہ کے بشمول کئی مقامات پر پی ایف آئی قائدین کے مکانات پر دھاوے کئے گئے۔ پی ایف آئی اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (پی ایف آئی کا سیاسی شعبہ) کے زائداز 75 ورکرس کو کرناٹک میں پرتشدد احتجاج کے اندیشے پر بطور احتجاج حراست میں لیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش سے بھی 21 پی ایف آئی ورکرس حراست میں لئے گئے جبکہ گجرات میں 10 گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ آسام میں کم از کم 25 پی ایف آئی قائدین وسطی اور زیریں آسام کے 5 اضلاع سے حراست میں لئے جاچکے ہیں۔ ریاستی پولیس نے آج بتایا کہ یہ کارروائی اضلاع کامروپ، گول پاڑہ، بارپیٹا، دھبری اور درانگ کے مختلف علاقوں میں کی گئی۔ آسام پولیس نے ریاست کے مختلف حصوں سے پہلے ہی پی ایف آئی کے 11 قائدین اور ورکرس کو گرفتار کیا تھا۔ دہلی سے بھی ایک گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ یوپی پولیس اسپیشل ٹاسک فورس نے بھی لکھنؤ سے ایک شخص عبدالمجید کو گرفتار کیا ہے۔ یہ کارروائی یو اے پی اے کے تحت کی گئی۔ 2006 ء میں تشکیل شدہ پی ایف آئی کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان میں حاشیہ پر کردیئے گئے طبقات کی بہبود کیلئے کام کرتا ہے۔