چار سال بعد انتخابی وعدوں کی تکمیل پر چیف منسٹر کے سی آر کی توجہ

   

مکان کی تعمیر کیلئے 3 لاکھ روپئے کی امداد کی تیاری۔ اسکیم کے قواعد طے کرنے عہدیداروں کو ہدایت
حیدرآباد ۔ یکم اگسٹ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں عاجلانہ انتخابات کی پیش قیاسی کے دوران چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے 2018 کے انتخابی وعدوں کی تکمیل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ کمزور مالی موقف کے باوجود چیف منسٹر نے فلاحی اسکیمات کے فنڈز میں کمی کے ذریعہ انتخابی وعدوں پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ 2018 ء میں چیف منسٹر نے زمین کے مالکین کو مکان تعمیر کرنے 3 لاکھ روپئے امداد کا وعدہ کیا تھا۔ اسکیم پر گزشتہ چار برسوں میں عمل آوری نہیں ہوسکی اور آئندہ انتخابات سے قبل چیف منسٹر نے عہدیداروں کو اسکیم کے رہنما خطوط طے کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں زمین رکھنے والے افراد کو امداد سے متعلق اسکیم پر عمل کو ڈبل بیڈ روم مکانات اسکیم سے مربوط کیا جاسکتا ہے۔ عہدیدار اسکیم کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کیلئے بڑھتی مانگ کو کم کرنے زمین رکھنے پر تعمیر کیلئے امداد کی پیشکش کی گئی۔ گزشتہ چار برسوں میں لاکھوں مستحق افراد اسکیم کیلئے ضلع کلکٹرس سے رجوع ہوئے لیکن اُنھیں یہ کہتے ہوئے واپس کردیا گیا کہ اسکیم پر عمل کے رہنمایانہ خطوط وضع نہیں ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہری علاقوں میں 50 مربع گز اور دیہی علاقوں میں 70 مربع گز اراضی کی شرط رکھی جاسکتی ہے۔ اِس سے زائد اراضی رکھنے والوں کو اسکیم کے دائرہ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ گائیڈ لائنس کی تیاری کے بعد منظوری کے لئے چیف منسٹر کو پیش کیا جائے گا۔ مرکز کی پردھان منتری آواس یوجنا پر تلنگانہ میں عمل آوری نہیں کی جارہی ہے کیوں کہ یہاں پہلے سے ڈبل بیڈ روم اسکیم موجود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے مرحلہ میں ریاست میں 3000 خاندانوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ وزراء اور ارکان اسمبلی کی سفارش کے مطابق مستحقین کا انتخاب ہوگا۔ ڈبل بیڈ روم مکان یا پھر مکان کی تعمیر کے لئے امداد میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ آئندہ ایک سال میں حکومت 43 ہزار ڈبل بیڈ روم مکانات کی تقسیم کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ر