آئندہ ایک ہفتے میں قیمتیں مزید کم ہونے کا امکان ۔ برڈ فلو نہ ہونے کے باوجود عوام میںشکوک
حیدرآباد ۔ شہر میں مرغ کے داموں میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ اس گراوٹ نے تاجرین بالخصوص ریٹیل تاجرین کیلئے مشکلات پیدا کردی ہیں اور متمول اور تعلیم یافتہ طبقہ نے چکن استعمال سے گریز شروع کردیا ہے۔ دونوں شہروں میں اتوار کو چکن کی فروخت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن برڈ فلو کی توثیق کے بعد آج پہلے اتوار کو شہر میں چکن کی فروخت میں 50 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ۔ کہا جا رہاہے کہ آئندہ دنوں میں مزید گراوٹ آسکتی ہے۔ کئی علاقو ںمیں ریٹیل تاجرین نے بتایا کہ آج چکن بازار میں مندی دیکھی گئی اور قیمتو ںمیں گراوٹ آرہی ہے ۔ ہول سیل تاجرین نے بتایا کہ فروخت میں گراوٹ کے سبب چکن کے وزن میں اضافہ ہورہاہے اور جب وزن میں اضافہ ہو تو قیمتو ںمیں نمایاں آتی ہے۔ ٹھوک تاجرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتہ میں چکن کی ہول سیل قیمت 27 روپئے فی کیلو تک کم ہوچکیہے اور آئندہ ہفتہ میں مزید گراوٹ ممکن ہے ۔ بتایاجارہا ہے کہ مہاراشٹرا سے تلنگانہ کو لائی جانے والی مرغی کی قیمت بھی کمی آرہی ہے ‘ اس کے باوجود مہاراشٹرا میں چکن کی قیمت مستحکم ہے جبکہ تلنگانہ میں برڈ فلو نہ ہونے کی توثیق کے باوجود شہریوں میں خوف ہے اور لوگ ورنگل اور پداپلی میں مرغیوں کے فوت ہونے کے بعد چکن کے استعمال کو ترک کررہے ہیں۔ حکومت نے کورونا کے آغاز کے وقت چکن کے سبب کورونا پھیلنے کی افواہوں کو دور کرنے کئی اقدامات کئے تھے کیونکہ اس وقت چکن کی قیمت 10 روپئے کیلو تک پہنچ چکی تھی اور مفت تقسیم کے ویڈیو گشت کر رہے تھے لیکن حکومت نے افواہوں کو مسترد کرکے کہا کہ چکن کے استعمال سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور قوت مدافعت میں اضافہ کیلئے چکن کا استعمال کرنا چاہئے لیکن اب برڈ فلو کی وباء کے متعلق اطلاعات نے چکن کی فروخت میں 50 فیصد سے زیادہ گراوٹ ریکارڈ کروائی ہے۔