مسائل کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کا مشورہ، میں نے ریاست کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا، شخصی تنقید افسوسناک
حیدرآباد۔/19 اپریل، ( سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے پہلی مرتبہ سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کی جانب سے سفارش کئے جانے والے ہر معاملہ کو قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک نیوز چیانل سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر نے حکومت کے ساتھ اپنے تلخ تجربات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ گورنر نے کہا کہ اختلافات ہوں تو انہیں بات چیت کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے لیکن شخصی طور پر تنقیدیں کرنا بہتر طریقہ کار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کیلئے ضروری نہیں کہ وہ چیف منسٹر کے سفارش کردہ ہر معاملہ کو قبول کرلے۔ اس طرح کے معاملات کو شخصی طور پر جوڑنے کی کوشش کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ گورنر نے کہا کہ وہ ایک مسئلہ پر اپنی رائے دینا چاہتی ہیں۔ چیف منسٹر اور گورنر کے درمیان بہتر روابط ہونے چاہیئے۔ بعض معاملات میں اختلاف رائے ہوسکتا ہے۔ ریاست سے متعلق چیف منسٹر کی جانب سے کئی سفارشات کی جاتی ہیں ان تمام کو میں نے قبول نہیں کیا۔ گورنر نے کہا کہ یہ ایک مکمل سیاسی معاملہ ہے۔ دستوری حقوق کا استعمال کرتے ہوئے گورنر اگر کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اسے میری ذمہ داری کا حصہ سمجھا جانا چاہیئے برخلاف اس کے اسے مخالف حکومت فیصلہ تصور کرنا غلط ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات کو اگر گورنر قبول نہ کرے تو موجودہ حالات میں اسے گورنر کے مخالف حکومت فیصلہ سے منسوب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاملناڈو اور تلنگانہ کی حکومتوں نے گورنر کے عشائیہ کا بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو کسی ایک مخصوص پارٹی سے جوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ ہر ایک کے نظریات اور احساسات ہوتے ہیں۔ دوسرے کی رائے سے ہم آہنگ نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کا بھی تذکرہ کیا۔ گورنر نے کہا کہ اگر کچھ بھی معاملہ ہو تو بیٹھ کر بات چیت کی جاسکتی ہے۔ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گورنر حکومت کے خلاف کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اسے تنازعہ کا موضوع بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ اس طرح کے خیالات اور طریقہ کار ٹھیک نہیں ہیں۔ گورنر نے کہا جو کچھ بھی ہوا میں نے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی دستوری ادارہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض کی تکمیل کرے۔ میں نے بھی اپنے دستوری فرائض کی تکمیل کی ہے لیکن بعض لوگ اسے غلط تصور کررہے ہیں۔ر