چیف منسٹر کے انتخابی حلقہ میں فارما سٹی کے قیام پر تعطل برقرار

   

کے ٹی آر نے گزٹ نوٹیفکیشن وائرل کیا، انڈسٹریل کوریڈور کے بارے میں بائیں بازو قائدین کو ریونت ریڈی کا زبانی تیقن

حیدرآباد۔ 24 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی کے انتخابی حلقہ کوڑنگل میں فارما کمپنیوں کے قیام سے متعلق تنازعہ نے اس وقت نیا موڑ لے لیا جب چیف منسٹر نے بائیں بازو جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کے دوران وضاحت کی ہے کہ کوڑنگل کے لگچرلہ گاؤں میں فارما ولیج نہیں بلکہ انڈسٹریل کوریڈور قائم کیا جائے گا۔ کسانوں سے اراضیات کے حصول کے مسئلہ پر حال ہی میں صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی اور گاؤں والوں نے کلکٹر وقارآباد کے قافلہ پر سنگباری کی تھی۔ کسانوں سے جبراً اراضیات کے حصول کی مخالفت کرتے ہوئے بائیں بازو جماعتوں کے قائدین نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کی۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری سامباسیوا راؤ، سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری کے ویرابھدرم کے علاوہ سی پی آئی ایم ایل نیو ڈیموکریسی، ایم سی پی آئی (یو) اور مختلف کسان تنظیموں کے نمائندوں نے چیف منسٹر کو یادداشت پیش کرتے ہوئے اراضیات کے جبراً حصول کی مخالفت کی۔ چیف منسٹر نے بائیں بازو جماعتوں کے قائدین کو بتایا کہ لگچرلہ میں فارما کمپنی قائم نہیں ہوگی بلکہ مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے انڈسٹریل کوریڈور قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے اراضیات کے جبراً حصول کے الزامات کو مسترد کردیا۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے 19 جولائی کو گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت کوڑنگل کے حکیم پیٹ، پولے پلی اور لگچرلہ مواضعات میں فارما ولیجس کے قیام کے لئے اراضی کے حصول کا اعلان کیا گیا تھا۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے حکومت کے گزٹ نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر نے بائیں بازو جماعتوں کے قائدین سے جھوٹ کہا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں فارما ولیج کا تذکرہ ہے لیکن چیف منسٹر زبانی طور پر انڈسٹریل کوریڈور کی بات کررہے ہیں۔ کے ٹی آر نے محکمہ انڈسٹریز وکامرس کی جانب سے 19 جولائی کو جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن سوشل میڈیا میں وائرل کرتے ہوئے چیف منسٹر سے موقف کی وضاحت طلب کی ہے۔ اسی دوران بائیں بازو قائدین نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تیقن دیا ہے کہ لگچرلہ میں فارما سٹی قائم نہیں ہوگی۔چیف منسٹر بے قصور افراد کے خلاف مقدمات سے دستبرداری کا بھی تیقن دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے گاؤں والوں کے ساتھ زیادتی اور ہراسانی کے بارے میں چیف منسٹر کو توجہ دلائی گئی ہے۔ چیف منسٹرنے تیقن دیا کہ کسی بھی کسان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ 1