چیف منسٹر کے سی آر نے کورونا صورتحال اور فیور سروے کا جائزہ لیا

   

45 ہزار افراد میں کورونا علامتوں کی نشاندہی، سروے میں لاپرواہی پر تین ملازمین معطل، دو عہدیداروں کو نوٹس

حیدرآباد ۔ 22 جنوری (سیاست نیوز) ریاست میں دوسرے دن بھی فیور سروے کا بڑے پیمانے پر انعقاد کرتے ہوئے تاحال 45,567 افراد میں سردی، بخار کھانسی کی علامتوں کی نشاندہی کی گئی۔ علامتیں رکھنے والے تمام افراد میں آئسولیشن کٹس تقسیم کرتے ہوئے انہیں پابندی سے ادویات کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ سروے میں بچے اور بڑوں کی علحدہ علحدہ تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ زیادہ تر بڑے افراد میں کورونا کی علامتیں نظر آرہی ہیں۔ زیادہ متاثر ہونے والے افراد کو طبی عملہ ہاسٹلس میں شریک کرارہا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے فیور سروے پر خصوصی نظررکھے ہوئے ہیں۔ وہ اعلیٰ عہدیداروں سے رپورٹ طلب کررہے ہیں۔ چیف سکریٹری سومیش کمار خود میدان میں اتر کر فیور سروے کا معائنہ کررہے ہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں اور ضلعی کلکٹرس سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ سروے میں لاپرواہی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے۔ ضلع نرمل کے کلکٹر مشرف فاروقی نے فیور سروے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے تین ملازمین کو معطل کردیا اور عہدیداروں کو نوٹس جاری کی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ اضلاع بھدرادری، کتہ گوڑم، نلگنڈہ، میدک، جنگاؤں، ہنمکنڈہ میں زیادہ لوگوں میں کورونا کی علامتوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ریاست میں کورونا کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ایک ہفتہ گھر گھر سروے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کل اور آج تین محکمہ جات کے عہدیدار اور عملہ نے شہر، گاؤں، بستیوں اور کالونیوں میں فیور سروے کیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ریاست میں جاری فیور سروے کا اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔ وزیرصحت ٹی ہریش راؤ اور وزیرپنچایت راج ای دیاکر راؤ سے بھی علحدہ علحدہ بات چیت کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کی ہے۔ چیف منسٹر کورونا کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور درج ہونے والے نئے کیسس کے بارے میں معلومات حاصل کی، ساتھ ہی کتنے لوگ ہاسپٹلس میں شریک ہورہے ہیں اور کتنے لوگوں کو آکسیجن کی ضرورت پڑ رہی ہے، آئی سی یو میں اضافہ ہونے والے کیسیس کی بھی تفصیلات حاصل کی۔ فیور سروے کے دوران ضرورت کے مطابق ہوم آئسولیشن کو تیار رکھنے کا مشورہ دیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ریاست میں کورونا کیسیس میں اضافہ ہورہا ہے مگر جس طرح پہلی اور دوسری لہر میں لوگ ہاسپٹلس میں شریک ہورہے تھے، ویسی صورتحال نہیں ہے۔ کورونا سے متاثر ہونے والے زیادہ تر افراد ہاسپٹل میں شریک ہونے کے بجائے گھروں میں کورنٹائن رہ کر علاج کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ن