’ڈیئر چیف سکریٹری ، دہلی سے زیادہ راج بھون قریب ہے‘

   

(راج بھون اور پرگتی بھون تنازعہ کا دلچسپ موڑ)
گورنر کا ٹوئیٹ، پروٹوکول کی خلاف ورزی و خیرسگالی ملاقات نہ کرنے پر شانتی کماری نشانہ
حیدرآباد۔3 ۔مارچ (سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں گورنر کے خلاف چیف سکریٹری کی رٹ پٹیشن کے تنازعہ نے آج دلچسپ موڑ اختیار کرلیا۔ گورنر ڈاکٹر سوندرا راجن نے ٹوئیٹر پر چیف سکریٹری شانتی کماری کو نشانہ بنایا ہے ۔ گورنر نے مقدمہ کا حوالہ دیئے بغیر ٹوئیٹر پر لکھا کہ ڈیئر چیف سکریٹری تلنگانہ راج بھون آپ کیلئے نئی دہلی سے قریب ہے۔ چیف سکریٹری عہدہ کا جائزہ حاص کرنے کے بعد آپ کو راج بھون آنے وقت نہیں ملا۔ پروٹوکول کی پابندی نہیں اور نہ ہی خیرسگالی ملاقات کیلئے راج بھون پہنچے۔ دوستانہ سرکاری دورہ و باہمی بات چیت زیادہ مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ گورنر نے آج صبح 11 بجے کے بعد ٹوئیٹر پوسٹ کرکے بالواسطہ کے سی آر حکومت کو نشانہ بنایا ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ میں چیف سکریٹری کی رٹ پٹیشن کی عدم سماعت کی اطلاع کے بعد گورنر نے یہ پوسٹ کیا۔ چیف سکریٹری نے سرکاری حیثیت میں حکومت کی رٹ پٹیشن دائر کی ہے لیکن گورنر نے چیف سکریٹری کو راج بھون ملاقات کیلئے نہ پہنچنے پر نشانہ بنایا ۔ انہوں نے پروٹوکول کی پابندی نہ کرنے کیلئے چیف سکریٹری سے سوال کیا اور کہا کہ خیرسگالی ملاقات کیلئے وقت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ شانتی کماری نے جنوری میں چیف سکریٹری کے عہدہ کا جائزہ لیا جبکہ سرکاری بلز گزشتہ 6 ماہ سے راج بھون میں زیر التواء ہے۔ زیر التواء 10 بلز میں 7 گزشتہ 6 ماہ سے گورنر کی منظوری کے منتظر ہیں اور حکومت نے بعض بلز کے معاملہ میں گورنر کے شبہات کو دور کرنے عہدیداروں کو روانہ کیا تھا۔ ٹوئیٹر پر گورنر کے ٹوئیٹ پر شہریوں کی جانب سے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ایک شہری نے گورنر اور شانتی کماری کی ملاقات کی تصویر پیش کرکے سوندرا راجن کے اس دعوے کو غلط ثابت کیا کہ انہوں نے ملاقات نہیں کی۔ شہری نے گورنر سے سوال کیا کہ وہ بلز کی منظوری کے بجائے مسئلہ کو سیاسی رنگ کیوں دے رہی ہے۔ ایک شہری نے گورنر سے سوال کیا کہ اگر بلز پر کوئی شبہات ہوں تو وہ حکومت سے وضاحت طلب کیوں نہیں کرتیں۔ شہریوں نے گورنر کے بیان پر لطیفے بنائے ۔ بعض میں لکھا کہ پروٹوکول برقرار رکھتے ہوئے راج بھون کو دو کیلو وزنی کیک بھیجا جانا چاہئے ۔ کئی شہریوں نے گورنر کے رویہ پر نکتہ چینی کی اور ان سے خواہش کی کہ وہ بی جے پی ایجنٹ کے بجائے گورنر کی طرح کام کریں۔ر