حیدرآباد 22 ستمبر (سیاست نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا حیدرآباد ضلع کونسل کے زیراہتمام مرکزی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں پر چارجس میں اضافہ کے خلاف ریالی منظم کی گئی۔ احتجاجیوں نے یو پی آئی پر عائد کئے جانے والے چارجس سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ سی پی آئی قائدین اور کارکن سیاہ لباس میں ملبوس تھے اور حمایت نگر پارٹی آفس سے ہائی جنکشن تک ریالی کا اہتمام کیا گیا۔ سی پی آئی حیدرآباد ضلع کونسل کے قائد ای ٹی نرسمہا نے اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے گزشتہ 12 برسوں میں عوام پر ٹیکس اور دیگر عنوانات سے عوام پر اضافی بوجھ عائد کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مہنگامی پر قابو پانے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے وعدے پورے نہیں ہوئے۔ گزشتہ 12 برسوں میں پٹرول، ڈیزل اور پکوان گیاس سیلنڈرس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ عوام کو اچھے دن کا وعدہ کرنے والی بی جے پی حکومت نے عام آدمی کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ ایسے وقت جبکہ چھوٹے اور متوسط کاروبار کے سلسلہ میں ڈیجیٹل ادائیگی عام ہوچکی ہے، حکومت نے 2 ہزار روپئے سے زائد کی ادائیگی پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکس تاجروں کو ادا کرنا ہوگا لیکن وہ اضافی رقم عوام سے وصول کریں گے۔ احتجاج میں سی پی آئی کے ریاستی کونسل کی رکن چھایا دیوی، سینئر قائدین پریم پوانی، ضلع سکریٹری اسٹالن، اسسٹنٹ سکریٹری کے یادگیری، اے آئی ٹی یو سی کے ریاستی صدر بی وینکٹیشم، تلنگانہ پرجا ناٹیا منڈلی کے ریاستی صدر پی نرسمہا، آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے ریاستی سکریٹری این سری کانت، کے سرینواس، عمر خان اور دوسروں نے شرکت کی۔V/1/k/b