ڈیلرز کی تنظیم نے ہندوستان پٹرولیم کے سامنے پریمیم پٹرول فروخت کرنے کے دباؤ کا معاملہ اٹھا دیا

   

نئی دہلی، 14 مئی (یو این آئی): پٹرولیم ڈیلرز کی تنظیم نے ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن(ایچ پی سی ایل) کے سامنے ڈیلرز پر پریمیم پٹرولیم کی فروخت بڑھانے کیلئے دباؤ ڈالنے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کو کسی ایک مصنوعات (پروڈکٹ) سے محروم کر کے دوسری مصنوعات خریدنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔’کنسورشیم آف انڈین پٹرولیم ڈیلرز’ کے جنرل سکریٹری کے . سریش کمار نے جمعرات کو ایچ پی سی ایل کو بھیجے گئے ایک خط میں لکھا ہے کہ تنظیم کو ہندوستان پٹرولیم کے ڈیلرز سے شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ ان پر ‘پاور پٹرول’ (پریمیم) کی فروخت بڑھانے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ صارفین کے اپنی پسند کا انتخاب کرنے کے حق کی خلاف ورزی ہے ۔ اگر کوئی صارف عام (نان برانڈڈ) پٹرول خریدنا چاہتا ہے ، تو اسے برانڈڈ پٹرول خریدنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ قابلِ ذکر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باوجود، حکومت کی مداخلت سے تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے نان برانڈڈ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا ہے ۔
تاہم، انہوں نے برانڈڈ پٹرول، جسے پریمیم پٹرول بھی کہا جاتا ہے ، کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے ۔ اس وقت دونوں کی قیمتوں میں فرق تقریباً 9 سے 10 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے ۔