کالیشورم پراجکٹ میں دھاندلیوں کی سی بی آئی تحقیقات ضروری

   

ریونت ریڈی حکومت کا ٹال مٹول، بی جے پی قائد رگھونندن راؤ کا الزام

حیدرآباد۔/19ڈسمبر، ( سیاست نیوز) بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی رگھونندن راؤ نے کالیشورم پراجکٹ میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملہ کی جانچ کرتے ہوئے حقیقی خاطیوں کو بے نقاب کیا جائے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رگھونندن راؤ نے کہا کہ 2008 میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں کالیشورم پراجکٹ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس وقت 160 ٹی ایم سی پانی کے ذریعہ 12 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کی تجویز تھی۔ وائی ایس آر حکومت نے مزید 2 لاکھ ایکر کو سیراب کرنے کی تجویز منظور کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے پراجکٹ کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں کی ہیں جس کی سی بی آئی تحقیقات ہونی چاہیئے۔ رگھونندن راؤ نے کہا کہ سی اے جی نے مارچ 2023 میں پراجکٹ میں بے قاعدگیوں سے متعلق تفصیلات حکومت کو روانہ کی۔ انہوں نے کہا کہ سی اے جی کے مکتوب کو ریاستی حکومت برسرعام کرنے سے خوفزدہ ہے کیونکہ اس معاملہ میں کانگریس حکومتوںکے کئی معاملات منظر عام پر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم ملک کا سب سے بڑا اسکام بن چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پردیش کانگریس کے صدر کی حیثیت سے ریونت ریڈی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو سی بی آئی تحقیقات کیلئے مکتوب روانہ کیا تھا۔ اب جبکہ وہ چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہیں سی بی آئی تحقیقات کے مطالبہ سے گریز کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کی بے قاعدگیوں میں بی آر ایس اور کانگریس دونوں برابر کے ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہائی کورٹ کے برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کرچکی ہے لیکن جج کے ذریعہ تحقیقات میں حقائق منظر عام پر نہیں آسکتے لہذا سی بی آئی تحقیقات کی جائیں۔ر