سینئر قائد کو پارٹی میں نظرانداز کرنے پر برہمی کا اظہار ، ڈی سی سی صدر کی مداخلت پر احتجاج ختم
نظام آباد۔4 اپریل ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کانگریس کے سینئر قائد ڈی سنجے کو پارٹی قیادت کی جانب سے مناسب مقام نہ دئیے جانے پر ان کے حامیوں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ کانگریس ہائی کمان سے انصاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے حامیوں کی جانب سے آج نظام آباد گاندھی چوک پر دھرماپوری سنجے کے حامیوں نے بڑے پیمانے پر بھوک ہڑتال کرتے ہوئے کانگریس اعلیٰ قیادت کے خلاف نعرہ بازی کی اور سنجے کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاجی پروگرام مقامی سیاست میں موضوع بحث بن گیا ہے۔اس موقع پر سابق میئر، منور کاپو سنگم ضلع صدر اور کانگریس کے دیگر قائدین و کارکنان نے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے پلے کارڈس کے ذریعہ اپنے مطالبات پیش کیے۔ مظاہرین نے کہا کہ دھرماپوری سنجے کو نظر انداز کرنا ناانصافی ہے اور پارٹی کو ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں مناسب مقام فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماضی میں متحدہ ریاست میں دھرماپوری سرینواس نے کانگریس کو اقتدار تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور پارٹی کے لیے مضبوط ستون ثابت ہوئے۔ ان کے مطابق بلدیہ انتخابات میں بھی دھرماپوری سنجے نے خصوصی محنت کرتے ہوئے کانگریس کو میئر کا عہدہ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ حامیوں نے الزام عائد کیا کہ دھرماپوری سرینواس کے وارث کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے اور حالیہ دورہ کے دوران چیف منسٹر ریونت ریڈی نے جو یقین دہانی کرائی تھی، اسے نظر انداز کردیا گیا ہے۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک دھرماپوری سنجے کو مناسب اہمیت نہیں دی جاتی، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔اس بات کی اطلاع ملنے پر سٹی کارپوریشن ٹاؤن کانگریس صدر بوببلی راماکرشنا نے مداخلت کرتے ہوئے احتجاج ختم کروا دیا۔ انہوں نے دھرنا کیمپ کا دورہ کرکے مظاہرین سے بات چیت کی اور انہیں یقین دلایا کہ کانگریس پارٹی میں تمام طبقات کے ساتھ مساوی انصاف کیا جاتا ہے۔اس لیے تمام کارکنان کو متحد ہوکر پارٹی کے حق میں کام کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی مخالف سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دھرماپوری سرینواس کے حامی ہونے کے ناطے سب کو پارٹی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے اور آئندہ 2029 کے انتخابات میں ریاست میں کانگریس حکومت کے قیام اور نظام آباد اربن حلقہ سے کانگریس امیدوار کی کامیابی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔ ان کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی۔