کانگریس کوئی چیز مسلط نہیں کرتی‘ مودی حکومت پر راہول کا طنز

کوزی کوڈ؍ تھریسور، 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس سربراہ راہول گاندھی نے آج وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اُن کے اور اُن کی پارٹی بی جے پی کے برعکس کانگریس ہر کسی کا مدعا سنتی ہے اور عوام پر کوئی چیز مسلط نہیں کرتی۔ کوزی کوڈ میں کانگریس ورکرز کی زبردست ’جن مہا ریلی‘ سے خطاب میں راہول نے لوک سبھا چناؤ کیلئے پارٹی کی ریاستی سطح کی مہم شروع کی۔ مودی پر نکتہ چینی میں صدر کانگریس نے کہا کہ وزیراعظم کا فرض اپنی ’من کی بات‘ تھوپنا نہیں بلکہ عوام کے ’من کی بات‘ کو سننا ہے۔ جو شخص اپنے من کی بات کو مسلط کرتا ہے وہ اس ملک کے تمام اداروں کو یکے بعد دیگر نشانہ بنارہا ہے۔ کانگریس چاہتی ہے کہ عوام کی بات سنے اور اسی کے مطابق کام کرے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس پارٹی کے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے ہیں۔ کانگریس کو فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا تعلق کس مذہب ، کس زبان اور کس نظریہ سے ہے۔

صدر کانگریس نے بی جے پی ۔ آر ایس ایس کے علاوہ کیرالا میں برسراقتدار سی پی آئی (ایم) پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ کسانوں، ماہی گیروں اور چھوٹے تاجرین کی آواز کو نظرانداز کررہے ہیں۔ بی جے پی اور سی پی ایم تشدد کو استعمال کرتے ہیں جو کمزور لوگوں کا ہتھیار ہے۔ ریاست کے طوفانی دورے میں راہول نے رافیل معاملت کا بھی حوالہ دیتے ہوئے مودی پر لفظی حملہ کیا اور اپنے وعدے کا اعادہ کیا کہ کانگریس برسراقتدار آنے پر تمام شہریوں کیلئے اقل ترین آمدنی کی ضمانت فراہم کی جائے گی۔ انھوں نے بیان کیا کہ انھیں ایسی ریاست کو آکر خوشی ہوئی جہاں مختلف نظریات اور مذاہب کے لوگ خوشی سے یکجا رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج ملک میں ’’نظریاتی لڑائی‘‘ جاری ہے۔ راہول نے تھریسور کا دورہ بھی کیا جہاں آل انڈیا فشرمین کانگریس کے زیراہتمام نیشنل فشرمین پارلیمنٹ میں ماہی گیروں کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران کہا کہ آپ ہمارے بینکنگ سسٹم پر نظر ڈالیں… محض 30 تا 40 افراد کو سارے انڈین بینکنگ سسٹم کا فائدہ حاصل ہورہا ہے۔ راہول نے کہا: ’’اگر آپ کسانوں کے قرض معاف کرنا نہیں چاہتے تو پھر انیل امبانی اور میہول چوکسی جیسے بزنس مین کے قرضوں کو بھی معاف نہ کریں۔‘‘

TOPPOPULARRECENT