عوام کو 28 ڈسمبر 2023 تا 6 جنوری 2024 درخواستیں داخل کرنے کی سہولت، راشن کارڈز نہ رکھنے والے بھی اہل: ریونت ریڈی
حیدرآباد۔27۔ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ 6ضمانتوں پر عمل آوری کے لئے 28 ڈسمبرتا6جنوری 2024 درخواستیں قبول کرتے ہوئے ان ضمانتوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کرے گی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج سکریٹریٹ میں 6ضمانتوں کے لوگواور درخواست فارمس کی اجرائی کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرجاپالانا پروگرام ریاست کے ہر گاؤں اور شہر میں منعقد ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت عوام کے دروازہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے اور عہدیداروں کو درخواستوں کی وصولی کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے ۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاب کیلنڈر پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا اور نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے۔ ملازمتوں کی فراہمی کے لئے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن کے صدرنشین کا ہونا ضروری ہے لیکن انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اسپیشل آفیسر کے تقرر کے سلسلہ میں کوششیں جاری ہیں اور توقع ہے کہ ریاستی گورنر آئندہ چند یوم کے دوران اس سلسلہ میں وضاحت کردیں گی۔ اے ریونت ریڈی نے بتایا کہ سابقہ حکومت نے ریاست کاخزانہ مکمل طور پر خالی کردیا ہے اور اب حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ریاست کی آمدنی میں کس طرح سے اضافہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں مرکزی حکومت سے فنڈس کے حصول کے اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات سے قبل کانگریس پارٹی نے عوام سے جو وعدہ کیا تھا ان پر عمل آوری کے اقدامات شروع ہوچکے ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے فوری بعد خواتین کے لئے آرٹی سی بس میں مفت سفر کی سہولت کے علاوہ راجیو آروگیہ شری اسکیم کے تحت 10لاکھ روپئے تک کے علاج کی اسکیم کو شروع کردیاگیا ہے اور اب مابقی اسکیمات پر عمل آوری کے لئے درخواستوں کی وصولی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ ذرائع ابلاغ و آزادیٔ صحافت کا خصوصی خیال رکھے گی اور صحافیوں کو مکمل آزادی فراہم کی جائے گی لیکن انہوں نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آزادی کے دائرہ کاتعین کریںاور اس آزادی کا بیجا استعمال نہ کریں۔ اے ریونت ریڈی نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے دیہی علاقوں میں پنچایت اور دیگر دفاتر میں ان درخواست فارمس کی وصولی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔انہو ںنے واضح کیا کہ ریاستی حکومت نے تمام 6ضمانتوں کے لئے ایک فارم جاری کیا ہے تاکہ عوام کو علیحدہ علیحدہ فارمس کے ادخال کی مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے اور حکومت اپنی ذمہ داری کو پورا کرے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ پرجا پالانا کے تحت اسکیمات کیلئے راشن کارڈ کا لزوم عائد نہیں کیاگیا ہے اور ان اسکیمات میں 500روپئے میں گیاس سیلنڈر‘ خواتین کیلئے 2500 روپئے ماہانہ ‘ وظیفہ پیرانہ سالی ‘ مکان کی تعمیر کیلئے 5لاکھ کی گرانٹ کے علاوہ 200 یونٹ مفت برقی کے استفادہ کنندگان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نئے راشن کارڈ بھی بنائے جائیں گے اور اس عمل کا جلد آغاز کیا جائے گا۔انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ اس درخواست فارم کے ادخال کیلئے سفید راشن کارڈ ضروری نہیں ہے۔6 ضمانتوں کیلئے درخواست فارم اور لوگو کی اجرائی کے لئے منعقدہ تقریب میں ڈپٹی چیف منسٹر ایم بھٹی وکرمارک ‘کے علاوہ ریاستی وزراء مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ‘ مسز کونڈا سریکھا‘ مسٹر ٹی ناگیشورراؤ‘ پی سرینواس ریڈی اور چیف سیکریٹری سانتی کماری ‘ سندیپ کمار سلطانیہ و دیگر عہدیدار موجود تھے۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ‘ ان کے فرزند کے ٹی راما راؤ کے علاوہ سابق وزیر فینانس ہریش راؤ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوامی دولت کا بیجا استعمال گذشتہ 10 برسوں کے دوران ہوا ہے اور موجودہ حکومت تمام معاملات کی جامع تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے گذشتہ 10 برسوں کے دوران عوام اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلہ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اب یہ فاصلہ دور ہوتا جا رہاہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت میدی گڈہ اور کالیشورم معاملہ کی بھی تحقیقات کر رہی ہے اور جلد ہی تمام حقائق کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ایوان میں وائٹ پیپر پیش کرتے ہوئے حکومت نے ریاست کے خزانہ کی حقیقت عوام کے سامنے پیش کی ہے تاکہ عوام کو بھی اس بات سے واقف کروایا جائے کہ ریاست کی گذشتہ 10 برسوں کے دوران کیا حالت کی گئی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں آٹو ڈرائیورس کے مسائل کی بھی نشاندہی کی جاچکی ہے اور انہیں حکومت کی جانب سے معاشی امداد کی فراہمی کی منصوبہ بندی کا آغاز ہوچکا ہے اور بے روزگار نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں بھی حکومت کی جانب سے اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرجا پالانا کے درخواست فارم داخل کرنے کیلئے سفید راشن کارڈ لازمی نہیں ہے۔ راشن کارڈ نہ رکھنے والے بھی 6 ضمانتوں کیلئے درخواست فارم داخل کرسکتے ہیں۔ 3