ڈر ہے اس سے جاگے نہ کوئی انقلاب
ایک طوفان کا پلنا بھی جرم ان دنوں
کرناٹک کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر ریاستی کانگریس میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ دو سینئر قائدین نے پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ پیش کردیا ہے جبکہ کچھ اور قائدین نے بھی وزارتی عہدہ نہ ملنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور کچھ استعفوں کے تعلق سے غور کرنے لگے ہیں۔ کرناٹک میں معاہدہ کے مطابق چیف منسٹر کی تبدیلی ہوئی ہے ۔ سدارامیا کی جگہ ڈی کے شیوکمار کو نیا چیف منسٹر مقرر کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کچھ وزراء کے ساتھ حلف لیا تھا اور اب وہ اپنی کابینہ میں توسیع کر رہے ہیں۔ پارٹی ہائی کمان سے 20 وزراء کی شمولیت کی منظوری دی گئی ہے ۔ ان میں کچھ سینئر قائدین اور سابق وزراء کا نام شامل نہیں ہے ۔ کچھ ایسے بھی امیدوار تھے جو وزارت کے خواہشمند تھے تاہم ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی ہے ۔ جہاں تک وزارت کی تشکیل کا سوال ہے تو یہ چیف منسٹر کا اختیار تمیزی ہوتا ہے اور کابینہ میں ارکان کی شمولیت کی ایک حد بھی طئے ہے ۔ اس سے زیادہ ارکان کو کابینہ میں شامل نہیں کیا جاسکتا ۔ اسی طرح سینئر قائدین اور دیگر ارکان اسمبلی کی وزارتی عہدہ کی خواہش بھی ایک فطری بات ہے ۔ پارٹی کیلئے جدوجہد کرنے اور کام کرنے کے بعد وہ عہدوں کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ تاہم یہ صورتحال سبھی کو نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر کسی کو خوش یا مطمئن نہیں کیا جاسکتا ۔ سبھی کی خواہشات کی تکمیل کسی بھی حکومت کیلئے ممکن نہیں ہوسکتی ۔ چیف منسٹر کا اپنا ایک خیال ہوتا ہے جس کے تحت وہ کابینہ کے ارکان کو منتخب کرتے ہیں۔ پارٹی قادئین ناراضگی کا اظہار پارٹی کے داخلی فورم میں کرسکتے ہیں تاہم دو سینئر قائدین نے استعفی پیش کردیا ہے اور کچھ اور قائدین استعفے کے تعلق سے غور کر رہے ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس نے ہمیشہ سے کانگریس کو نقصان پہونچایا ہے ۔ پارٹی نے کئی مواقع پر ایسی صورتحال میں سمجھوتے کئے ہیں اور ناراض قائدین کو منانے میںکوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ہے ۔ اسی وجہ سے پارٹی قائدین کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔
فی الحال چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ کانگریس پارٹی کی روایات کے مغائر ہے ۔ وہ اس بار سخت گیر موقف اختیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ پارٹی میں ڈسیپلن کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ اگر کوئی قائدین استعفے پیش کرتے ہیں وہ ان استعفوں کو چند منٹوں میں قبول کرلیا جائے گا ۔ اس طرح انہوں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ دباؤ کی حکمت عملی کو قبول نہیں کیا جائے گا اور ہر کسی کو پارٹی کے فیصلوں اور اقدامات کو قبول کرنا ہوگا ۔ پارٹی کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے فیصلے کئے جا رہے ہیں اور چونکہ آئندہ دو سال بعد ریاست میں اسمبلی انتخابات بھی ہونے والے ہیں ایسے میں انتخابی امکانات کو پیش نظر رکھنا بھی ضر وری ہے ۔ ڈی کے شیوکمار کی پالیسی سے پارٹی کے چند دوسرے قائدین اختلاف کرسکتے ہیں اور ناراضگی ظاہر کرسکتے ہیں تاہم انہیں پارٹی کے فیصلوں کو قبول کرنے اور دور رس اثرات کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ شیوکمار کے تعلق سے مشہور ہے کہ وہ سخت فیصلے کرنے کے عادی ہیں اور وہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر اپنے انداز میں کام کرتے ہیں۔ کرناٹک میں کانگریس کو اقتدار پر واپس لانے میں ان کے رول سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور اسی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں نصف معیاد کے بعد ریاست کی عنان اقتدار پارٹی ہائی کمان کی جانب سے سونپی گئی ہے ۔ اب بھی وہ سخت فیصلے کر رہے ہیں۔
ریاست کے حالات اور پارٹی کے مستقبل کے انتخابی امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس طرح کے سخت فیصلے بسا اوقات ضروری بھی ہوتے ہیں۔ پارٹی کی مرکزی قیادت چیف منسٹر کے فیصلوں کے ساتھ ہے اور اس نے ایک فہرست کو منظوری بھی دیدی ہے ۔ ایسے میں جو قائدین ناراض ہیں ان سے خود چیف منسٹر نے بات کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ ناراض قائدین کو شخصی توقعات اور عہدوں کی خواہش کو ترجیح دینے کی بجائے پارٹی مفادات اور دور رس اثرات کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔