کرناٹک کے اُردو اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا معاملہ سنگین

   

گلبرگہ میں اُردو بچاؤ جلسہ ، ڈاکٹر محمد اصغر چلبل کا خطاب ، اعلیٰ سطحی وفد کی کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سے نمائندگی
گلبرگہ ۔25 اگست(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کرناٹک میں تقریباً 4,300 سرکاری اردو اسکول موجود ہیں، لیکن ان اسکولوں میں زیادہ تر جائیدادیں مخلوعہ خالی ہونے کی وجہ سے طلبہ اور ان کے والدین اردو اسکولوں میں داخلہ دلانے سے گریز کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ریاستی حکومت کی جانب سے 15 ہزار کنڑا اساتذہ کے تقرر کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس میں اردو اساتذہ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار گلبرگہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KUDA) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے شالیمار گارڈن فنکشن ہال، قمر کالونی میں منعقدہ “اردو بچاؤ جلسہ” سے بطورِ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے کرناٹک کے چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار سے پُر زور مطالبہ کیا کہ وہ فوراً چیف سکریٹری سے تبادلہ خیال کر کے اردو اساتذہ کی خالی جائیدادوں کو پُر کرنے کیلئے کابینہ سے منظوری لیں اور وزیر برائے پرائمری و ہائر ایجوکیشن کو بھی واضح ہدایات جاری کریں کہ وہ ریاست بھر میں اردو کی خالی جائیدادوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے، اردو اسکولوں میں اردو داں ہی صدرِ مدرس کا تبادلہ ہونا چاہیے، تمام اردو اسکولوں کی عمارات کی خستہ حالی کی رپورٹ تیار کی جائے، اور اردو اسکولوں میں کنڑا مضمون کے اساتذہ کا تقرر بھی لازمی قرار دیا جائے۔جلسہ کے آغاز میں عبدالرحیم پٹیل نے افتتاحی تقریر کرتے ہوئے بنگلور میں منعقدہ احتجاجی اقدامات کے بارے میں شرکاء کو تفصیلی جانکاری دی۔ علیم الٰہی اور محمد محسن نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بہت جلد ایک مؤثر “پریشر گروپ” تیار کیا جائے گا اور اردو زبان کی بقاء کیلئے اپنی جدوجہد کو مسلسل جاری رکھا جائے گا۔اس اہم اجلاس میں عبدالرحیم پٹیل، علیم الٰہی، اور محمد محسن کو اس اجلاس کے انعقاد پر خصوصی مبارکباد پیش کی گئی۔ اس موقع پر سید شاہ یداللہ حسینی، مظہر ایڈوکیٹ، عبدالجبار گولہ ایڈوکیٹ، وہاج بابا ایڈوکیٹ، اکرم نقاش، انیس احمد، ولی احمد، عبدالباری، نواب خان، صادق کرمانی، رضوان صدیقی اور دیگر سرکردہ شخصیات نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
٭٭٭ اے آئی سی سی کے صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈرڈاکٹر ملکارجن کھرگے سے ان کی رہائش گاہ پر ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ وفد نے کرناٹک بھر کے سرکاری اسکولوں میں اردو اساتذہ کی بھرتی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک باضابطہ یادداشت پیش کی۔ملاقات کے دوران وفد نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس وقت کرناٹک بھر میں 4,300 سرکاری اردو اسکول کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ ریاستی حکومت نے حال ہی میں 15,000 کنڑ اساتذہ کی خالی اسامیوں کو پر کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا گیاہے لیکن اس میں اردو اساتذہ کی خالی اسامیوں کو پر کرنے کے حوالے سے کوئی شق شامل نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر ملکارجن کھرگے نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملہ کو فوری طور پر حل کرنے اور اردو میڈیم کے طلباء اور نوکری کے متلاشیوں کو انصاف دلانے کے لیے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سے ذاتی طور پر بات کریں گے۔ کھرگے ملاقات کرنے والے اہم وفد کے اراکینمیں ڈاکٹر محمد اصغر چلبلُ سابق چیئرمین کڈا۔ عبدالجبار گولاایڈوکیٹ، عبدالرحیم پٹیل،قاضی رضوان الرحمن صدیقی ،عبدالباری، حیدر علی باغبان، ابرار احمد اور دیگر ممتاز اراکینِ کمیٹی شامل تھے ۔