ڈرون کے ذریعہ آنسو گیس کے شل گرائے گئے
حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری (سیاست نیوز) نئی دہلی میں کسانوں کے احتجاج سے نمٹنے کیلئے ہریانہ حکومت نے ڈرون کا استعمال کیا ہے تاکہ احتجاجی کسانوں پر آنسو گیس کے شل برسائے جائیں۔ دہلی پولیس نے پہلی مرتبہ ڈرون کا استعمال کیا۔ سنگھو سرحد سے کسانوں کو دہلی میں داخلہ سے روکنے کیلئے کئی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہے ۔ پولیس نے کسانوں کو روکنے کیلئے ٹکنالوجی کا استعمال کیا جبکہ ڈرون کو ناکام بنانے کیلئے کسانوں نے پتنگوں کو ہوا میں اڑاکر ڈرون کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے۔ کسانوں نے ڈرون کے منظر عام پر آتے ہی پتنگیں اڑاکر ڈرون کا راستہ روکنے کی کامیاب کوشش کی۔ ماہرین نے کسانوں کی ذہانت پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج پر کڑی نگرانی رکھی جارہی ہے اور ڈرون کے استعمال کے ذریعہ احتجاجیوں کی سرگرمیوں پر نظر ہے۔ دہلی پولیس نے بھی احتجاجیوں سے نمٹنے کی تیاری کرلی ہے اور 20,000 آنسو گیس کے شل تیار رکھے گئے ہیں۔ یہ شل بی ایس ایف کے مدھیہ پردیش میں واقع یونٹ سے حاصل کئے گئے جہاں آنسو گیس کے شل تیار کئے جاتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں تعینات پولیس کو آنسو گیس کے شل حوالے کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرحدی چوکیوں پر 25,000 سے زائد ملازمین پولیس کو تعینات کیا گیا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی کیلئے 85 اور دیگر علاقوں میں 150 کمپنیاں نیم فوجی دستوں کی تعینات کی ہے۔ کسانوں کو دہلی میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے خاردار تاروں کا استعمال کیا گیا۔ سنگھو بارڈر پر احتجاجیوں سے نمٹنے کیلئے پولیس نے دو گھنٹوں تک تربیتی مشق کی ہے۔ احتجاجیوں پر نظر رکھنے کیلئے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے۔ 1