نئی دہلی: 30 جولائی ( ایجنسیز ) مدھیہ پردیش کے حساس اور طویل عرصے سے زیرِ سماعت بھوج شالہ تنازعہ میں سپریم کورٹ نے اہم عبوری حکم جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باغچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ مسلم فریق کو جمعہ کی نماز کیلئے متنازعہ بھوچشالہ احاطے سے متصل خسرہ نمبر 596، جسے ریکارڈ میں درگاہ کی زمین کے طور پر درج کیا گیا ہے، پر دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک نماز کی سہولت فراہم کی جائے۔عدالت نے کہا کہ یہ مقام متنازعہ احاطے کے قریب ہے اور نماز کی ادائیگی کیلئے موزوں دکھائی دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ہندو مسلم دونوں فریق رضامندی سے کسی دوسرے متبادل مقام پر اتفاق کر لیتے ہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔مسلم فریق کے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ عبوری احکامات کے باوجود انتظامیہ نے نماز کیلئے 1.3 کلومیٹر دور جگہ فراہم کر رہی تھی، جو ان کے مطابق مناسب نہیں تھی۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ نماز کیلئے ایسی جگہ مقرر کی جائے جہاں سے مسجد واضح طور پر نظر آئے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے خسرہ نمبر 596، یعنی درگاہ کی زمین کو جمعہ کی نماز کیلئے مختص کرنے کی اپیل کی۔مدھیہ پردیش حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے مؤقف اختیار کیا کہ ریاست کا مقصد کسی ایک فریق کی حمایت کرنا نہیں بلکہ صرف امن و امان برقرار رکھنا اور عدالتی احکام پر عمل کو یقینی بنانا ہے۔مسلم فریق نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگرچہ انہوں نے اپنے حامیوں کو میڈیا میں بیان بازی سے روکا ہے، تاہم دوسرے فریق سے مسلسل بیانات دیے جا رہے ہیں جن میں نماز ادا نہ کرنے دینے کی بات کہی جا رہی ہے۔