کئی افراد کو مایوسی ، طبی عملہ کے لیے خصوصی اجازت دینے کی ضرورت
حیدرآباد۔ ریاست میں لاک ڈاؤن کے اصولوں کے متعلق عوام میں شعور اجاگر کیا جانا ضرور ی ہے اور محکمہ صحت کے عہدیداروں کو بھی بستی دواخانوں کے علاوہ ان مقامات پر جہاں ٹیکہ اندازی اور کورونا وائرس کے معائنوں کے انتظامات کئے گئے ہیں خدما ت انجام دینے والے عملہ کی آمد و رفت کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور انہیں لاک ڈاؤن کے اوقات کار میں بھی آمد ورفت کے اختیار سے واقف کرواتے ہوئے ان کی خدمات کو حاصل کیا جائے کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوسرے دن آج شہر کے کئی کورونا وائرس معائنوں کے مراکز کے علاوہ ٹیکہ اندازی کے مراکز کو 10:30 بجے بند کردیا گیا جس کے سبب کئی افراد جو کہ کورونا وائرس کا معائنہ کروانے کیلئے یا ٹیکہ کے حصول کے لئے مراکز پر پہنچے تھے انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآبادکے حدود میں موجود بستی دواخانوں کے عملہ کے علاوہ ٹیکہ اندازی اور کورونا وائرس کے معائنہ کرنے والے عملہ کی جانب سے لاک ڈاؤن میں رعایت کے وقت کے اختتام کے ساتھ ہی مراکز کو بند کردیئے جانے کے سبب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران دی جانے والی رعایت میں ہی یہ مراکز خدمات انجام دیں گے جبکہ محکمہ صحت کے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ ان مراکز پر خدمات انجام دینے والے عملہ کواس بات کا احساس دلائیں کہ وہ ہنگامی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان ہنگامی خدمات کیلئے انہیں آمد و رفت میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی اس میں رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے ۔ ان مراکز پر خدمات انجام دینے والے ایک شخص نے بتایا کہ 13مئی کو مراکز بند کئے جانے کی بنیادی وجہ کورونا وائرس معائنہ کی کٹس میں کمی کے علاوہ ٹیکہ اندازی کے مراکز پر ٹیکوں کی کمی کے سبب مراکز کو جلد بند کردیا گیا ہے لیکن عہدیداروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ لاک ڈاؤن میں رعایت کے اوقات میں ہی ان مراکز پر لوگ موجود تھے اور لاک ڈاؤن میں رعایت ختم ہوتے ہی یعنی 10بجے کے بعد ان مراکز پر کوئی نہ پہنچنے کے سبب انہیں بند کردیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ کورونا وائرس کے معائنوں کے لئے موجود کٹس اور ٹیکہ کی قلت کے سبب شہر حیدرآباد میںبیشتر مراکز کو 10 بجے کے بعد بند کردیا گیا جو کہ تکلیف کا سبب ثابت ہوا۔