کولکتہ کے مشہور اسپتال پر ملزموں کو پناہ دینے کا الزام

   

کولکتہ: مغربی بنگال کے شہر کولکتہ کے سب سے مشہور سرکاری اسپتال ایس ایس کے ایم پر بدعنوانی کے مختلف معاملات میں نامزد ملزمان کو پناہ دینے کا الزاما عائد کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے ۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے ایک اہم ترین سرکاری اسپتال میں طبی خدمات کا غلط استعمال کررہا ہے ۔ مدعی نے اس سلسلے میں عدالت سے مداخلت کی استدعا کی۔یہ مقدمہ وکیل رام پرساد سرکار نے دائر کیا ہے ۔ انہوں نے حلف نامے میں دعویٰ کیا کہ ‘‘علاج کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن بااثر لوگوں نے اس اسپتال کے بستر پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ وہاں ان کے ساتھ منافقانہ سلوک کیا جا رہا ہے ۔ عام بیمار افراد کو بستر نہیں مل رہے ۔ یہاں تک کہ شدید بیمار مریضوں کو۵۴ بھی مناسب علاج نہیں مل رہا ہے ۔ اس کی تصدیق کسی مرکزی سرکاری اسپتال سے کرائی جائے ۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی اور ای ڈی کو ہدایت دی کہ وہ اسپتال میں داخل ملزمان کے کیس کا ریکارڈ پیش کریں۔ مدعی نے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ مقدمہ وسیع تر عوامی مفاد میں درج کرایاہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اور ان جیسے زیادہ تر لوگ ایس ایس کے ایم اسپتال میں سب کے لیے یکساں سلوک چاہتے ہیں۔