اچانک باغیانہ تیور، بی سی طبقہ سے تعلق پر ناانصافی کا الزام، تادیبی کارروائی ناقابل قبول
حیدرآباد۔2 ۔ستمبر (سیاست نیوز) تادیبی کارروائی کی قیاس آرائیوں کے درمیان وزیر جنگلات کونڈا سریکھا نے نئی دہلی میں صدر کانگریس ملکارجن کھرگے اور جنرل سکریٹری اے آئی سی سی کے سی وینو گوپال سے ملاقات کی اور اپنے موقف کی وضاحت کی۔ کونڈا سریکھا نے اپنی دختر کونڈا سشمیتا کی جانب سے چیف منسٹر کے خلاف دئے گئے بیان پر انہیں نوٹس کی اجرائی کو غیر درست قرار دیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کونڈا سریکھا نے ملکارجن کھرگے سے شکایت کی کہ پارٹی کے بعض قائدین انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنارہے ہیں۔ ملکارجن کھرگے اور کے سی وینو گوپال کی جانب سے تادیبی کارروائی کو روکنے سے متعلق کوئی واضح تیقن حاصل نہیں ہوا جس کے بعد میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کونڈا سریکھا نے باغیانہ تیور اختیار کرلئے اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملکارجن کھرگے اور وینوگوپال نے انہیں وزارت سے استعفیٰ دینے کی خواہش نہیں کی ہے۔ کونڈا سریکھا نے کہا کہ چونکہ ان کا تعلق بی سی طبقہ سے ہے ، لہذا انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی سی طبقہ کے ساتھ ایک انصاف اور دوسروں کے ساتھ دوسرا سلوک یہ کہاں کا انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں موجود دیگر طبقات کے وزراء کے بارے میں سنگین الزامات ہیں لیکن ان سے کوئی جواب طلب نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر وزراء کے خلاف پارٹی کیا کارروائی کرے گی؟ کونڈا سریکھا نے بتایا کہ تلنگانہ کی سیاسی صورتحال کے بارے میں کھرگے ، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو تحریری طورپر واقف کراچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دختر کے بیان پر انہیں ذمہ دار قرار دینا کسی بھی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہے۔ میں نے ملکارجن کھرگے کو تمام تفصیلات سے واقف کرایا ہے۔ مجھے کچھ کہنا تھا ، میں نے کہہ دیا اور ہائی کمان فیصلہ کرے گا ۔ میری دختر علحدہ زندگی بسر کر رہی ہے اور وہ شادی کے بعد میرے ساتھ نہیں ہے۔ ان کا بیان ان کی اپنی رائے ہے جس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ وزیر جنگلات نے کہا کہ وزارت میں بدعنوانیوں کے الزامات نہیں ہیں۔ میناکشی نٹراجن سے بھی میں اپنے موقف کی وضاحت کی ہے ۔ پارٹی میں بعض افراد جان بوجھ کر مجھ پر الزام تراشی کر رہے ہیں اور میں انہیں اچھی طرح جانتی ہوں۔ کونڈا سریکھا نے کہا کہ اگر ڈسپلن شکنی کے معاملہ میں کارروائی کرنی ہو تو مجھ سے پہلے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ دختر کے بیان پر اگر کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو وہ خاموش نہیں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طبقہ سے تعلق کے نتیجہ میں ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔ ملکارجن کھرگے نے مجھ سے استعفیٰ کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہائی کمان نے انہیں طلب نہیں کیا بلکہ وہ اپنے طور پر نئی دہلی آئی ہیں تاکہ ہائی کمان سے وضاحت کرسکیں۔1/k/m/b