کپل سبل الیکٹرانک مشینوں میں چھیڑ چھاڑ اور فسادات میں ملوث

کانگریس قائد کے خلاف بی جے پی لیڈر جی کشن ریڈی کی ڈی جی پی تلنگانہ سے نمائندگی
حیدرآباد ۔ 23جنوری ( سیاست نیوز) بی جے پی سینئر لیڈر جی کشن ریڈی نے ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ مسٹر مہیندر ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے ای وی ایم مشینوں سے چھیڑ چھاڑ اور فرقہ وارانہ فسادات میںملوث ہونے کے الزامات کے خلاف کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل اور دیگر کے خلاف ایک تحریری شکایت درج کروائی ۔ کشن ریڈی نے اپنی شکایت میں کہا کہ 22جنوری کو کئی ٹی وی چینلس پر سابق وزیر و کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے ایک نوجوان سید شجاع جو خود کو سائبر ایکسپرٹ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کی جانب سے لندن میں منعقدہ صحافیوں کے ’’Hacathon‘‘ پروگرام کے حوالے سے ان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اپل میں واقع ایک گیسٹ ہاؤز میں سال 2014ء میں 11افراد کا قتل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ انہوں نے اپنی درخواست میں بتایا کہ اس پریس کانفرنس کے ذریعہ کپل سبل اور دیگر مخالفین عوام کی توجہ ہٹاتے ہوئے ا س قسم کی بے بنیاد خبروں کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا ہے ۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان کے خلاف آج تک ایک بھی فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے اور 11افراد کے قتل و فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہونے کا الزام حیرت انگیز ہے ۔ جی کشن ریڈی نے پولیس سے درج کردہ شکایت میں کہا کہ سید شجاع اور آشیش رے جنہوں نے لندن میں ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ ممکن ہونے کے عنوان پر ایک کانفرنس منعقد کی تھی اور اس پروگرام میں کپل سبل کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ان کے خلاف کی گئی سازش کا حصہ ہے ۔جی کشن ریڈی نے اپنی شکایت میں مزید بتایا کہ کپل سبل نے منصوبہ بند طریقہ سے سید شجاع نامی خودساختہ سائبر ایکسپرٹ کا ای میل حاصل ہونے اور اُسے وائرل کرتے ہوئے ان کی کردار کشی کے علاوہ بی جے پی پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ حلقہ اسمبلی عنبرپیٹ سے مسلسل تین مرتبہ بی جے پی ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور وہ پارٹی کے قائد مقننہ بھی رہ چکے ہیں ۔ گذشتہ 40سال سے کڑی محنت سے حاصل کی گئی ساکھ کو کپل سبل نے دانستہ طور پر بدنام کیا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملہ کی مکمل جانچ کی جائے اور کپل سبل ، سید شجاع اور آشیش رے کے خلاف تعزیرات ہند کے دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کیا جائے ۔ کشن ریڈی کے ہمراہ بی جے پی کے ایم ایل سی رامچندر بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی کانگریس کی اس مہم کو سازش قرار دیا ۔

TOPPOPULARRECENT