کھرگون: مدھیہ پردیش کے کھرگون میں رام نومی کے جلوس پر پتھراؤ کے بعد بھڑکے تشدد کے دوران کھرگون کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) سدھارتھ چودھری کو گولی مار کر زخمی کرنے والے مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے ۔تشدد کے بعد آئی پی ایس افسر انکت جیسوال نے ، جو خاص طور پر کھرگون میں تعینات تھے ، کہا کہ فساد کے دوران پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھارتھ چودھری کو گولی مار کر زخمی کرنے والے مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے ۔ اس واقعہ میں تلوار لے کر بھاگنے والے شخص کی بھی تلاش کی جارہی ہے۔ انہوں نے عینی شاہدین اور دیگر لوگوں سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر بتایا کہ سنجے نگر میں تشدد کے دوران جب پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھارتھ چودھری پہنچے تو تین لوگوں کے ہاتھ میں پستول دیکھی گئئ تھی۔ ان میں سے دو سنجے نگر اور ایک مالی محلہ کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کے اہل خانہ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے اور وہ پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ذرائع سے اسے گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھرگون ضلع ہیڈکوارٹر کے تالاب چوک میں رام نومی کے جلوس پر پتھراؤ کے فوراً بعد جھنڈا چوک، دھان منڈی اور شیتلہ ماتا مندر میں تشدد شروع ہو گیا اور اس کی وجہ سے کھرگون پولیس کی زیادہ تر فورس وہاں تعینات کر دی گئی۔
ان چاروں علاقوں کے ساتھ ساتھ دیگر کئی مقامات پر تشدد پھیل گیا تھا۔ اچانک سنجے نگر میں آتشزدگی کے کئی واقعات کی اطلاع ملنے پر پولیس سپرنٹنڈنٹ اپنے گن مین، ڈرائیور، ریڈر اور دو دیگر پولیس والوں کے ساتھ وہاں پہنچے ۔ اس دوران ہجوم پر تلوار اٹھانے والے نوجوان کو روکنے کے دوران ان کے انگوٹھے پر چوٹ لگ گئی اور جب وہ اسے پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگے تو ایک نامعلوم شخص نے انہیں گولی مار دی۔ گولی ان کی بائیں ٹانگ کے گھٹنے کے نچلے حصے سے گزری تھی۔ جب انہیں گولی لگی تو زیادہ تر پولیس فورس ان کے پاس آگئی اور اس دوران تلوار چلانے والے اور دیگر پستول چلانے والے بھیڑ میں شامل ہوکر غائب ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔انہوں نے بتایا کہ ضلع ہاسپٹل میں علاج کے بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھارتھ چودھری کچھ دن ایک نجی ہاسپٹل میں رہے اور اس کے بعد انہیں تین ہفتے آرام کا مشورہ دیا گیا ہے ۔سیندھوا بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اجے متل نے سیندھوا اور کھرگون کے واقعات کے بارے میں کہا کہ پولیس کو ’انٹیلی جنس سیل‘کو بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے پولیس میں کوئی اصلاحات نہیں ہوئیں اور معلومات اکٹھی کرنے کا کام پرانی طرز پر کیا جا رہا ہے ۔آئی پی ایس افسر انکت جیسوال نے کہا کہ کھرگون ضلع ہیڈکوارٹر میں 99 سی سی ٹی وی کیمرے بڑھائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڈوانی اور کھرگون اضلاع میں فسادات کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکار جلد ہی ڈیوٹی پر واپس آگئے تھے ۔کھرگون میں تشدد کے بعد سے کرفیو نافذ ہے اور وقتاً فوقتاً اس میں نرمی دی جا رہی ہے ۔