گاندھی بھون میں کانگریس پارلیمانی کمیٹی حیدرآباد کا اجلاس کُشتی کے دنگل میں تبدیل

,

   

وزراء کی موجودگی میں فیروز خان اور عثمان بن محمد الہاجری کے درمیان ہاتھا پائی

حیدرآباد۔27۔مئی ۔(سیاست نیوز) کانگریس پارلیمانی کمیٹی حیدرآباد کا اجلاس ’کشتی کے دنگل‘ میں تبدیل ہوگیا۔ گاندھی بھون میں منعقدہ اجلاس میں ریاستی وزراء جناب محمد اظہر الدین ‘ مسٹر پونم پربھاکر کے علاوہ تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے بی سی ویلفیر مسٹر وی ہنمنت راؤ کے علاوہ دیگر قائدین موجود تھے۔اجلاس کے دوران نامپلی انچارج فیروز خان اور انچارج حلقہ اسمبلی کاروان عثمان بن محمد الہاجری کے درمیان ہوئی ہاتھا پائی نے ذرائع ابلاغ میں نمایاں جگہ بنالی اور بیشتر تمام ٹیلی ویژن چیانلس اور سوشل میڈیا پر عثمان الہاجری کے تھپڑ سے فیروز خان کے گرنے کی ویڈیو گشت کر نے لگی۔ گاندھی بھون کے دنگل میں تبدیل ہونے اور دونوں انچارجس کے درمیان ہوئی ہاتھا پائی کو رکوانے کے لئے دیگر قائدین کی مداخلت کے دوران فحش کلامی اور گالی گلوچ بھی ویڈیو میں واضح سنائی دے رہی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین کی آمد کے بعدان کے بازو کی کرسی پر بیٹھنے کے معاملہ میںشروع ہوئی اس بحث نے ہاتھا پائی کا رخ اختیار کرلیا اور اس ہنگامہ آرائی کے دوران عثمان الہاجری نے فیروز خان کو تھپڑ رسید کردیا جس کے نتیجہ میں وہ زمین پر گرپڑے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ہی حلقہ جات سے تعلق رکھنے والے انچارجس ریاستی حکومت اور وزراء کی کارکردگی سے شدید ناراض تھے کیونکہ دونوں ہی انچارجس کے حلقہ جات اسمبلی میں وزراء کے دورہ کے دوران انہیں مدعو نہ کئے جانے کی شکایات کر رہے تھے ۔ بتایاجاتاہے کہ پارلیمانی حلقہ حیدرآباد میں کانگریس کی سرگرمیوں اور حلقہ جات اسمبلی کے انچارجس کو اہمیت نہ دیئے جانے کی شکایت کرنے والوں کے درمیان ہونی والی اس جھڑپ کے ذریعہ شہر میں کانگریس کو کمزور کرنے کی سازش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق صدرپردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ رکن قانون ساز کونسل نے گاندھی بھون میں ہونے والی اس ہنگامہ آرائی اور ہاتھاپائی کا سخت نوٹ لیتے ہوئے اس سلسلہ میں پارٹی انچارج محترمہ میناکشی نٹراجن سے شکایت کرتے ہوئے کاروائی کا فیصلہ کیاہے۔ذرائع کے مطابق صدرپردیش کانگریس نے واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس طرح کے واقعات سابق میں بھی رونما ہوچکے ہیں اسی لئے اس معاملہ کو تادیبی کمیٹی سے رجوع کیا جائیگا۔ بعد ازاں فیروز خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسے معمولی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو واقعہ پیش آیا ہے وہ خاندانی نوعیت کا ہے اور عثمان الہاجری ان کے بڑے بھائی کی طرح ہیں اسی لئے وہ اس واقعہ کو طول دینے کے حق میں نہیں ہیں۔3