گریٹر حیدرآباد میں 61 جھیلوں کو بہتر بنانے کے اقدامات

   

حیدرآباد 20 مارچ (سیاست نیوز) ایک مشن موڈ اختیار کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے تالابوں اور جھیلوں کی حالت کو ازسرنو بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے حدود میں 95.54 کروڑ روپئے کے مصارف سے 61 جھیلوں کو ازسرنو بہتر بنایا جارہا ہے۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں کے مطابق پانچ جھیلوں پر کام کا آغاز ہوچکا ہے اور مابقی جھیلوں کے کام ٹنڈر مرحلہ میں ہیں۔ جھیلوں پر بند اور بند کے دروازہ کی مرمت اور بحالی اور فینسنگ کے کام کے علاوہ سیویج کے رُخ میں تبدیلی کے کام شروع کئے گئے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے ایک عہدیدار نے کہاکہ مانسون کے دوران سیلاب جیسی صورتحال پیدا نہ ہونے دینے کے لئے مرمتی اور بحالی اور جھیلوں کو مضبوط بنانے کے کام کئے جارہے ہیں جبکہ سیویج کے جھیلوں میں جانے سے روکنے سے آلودگی میں کمی ہوگی۔ سیری لنگم پلی میں نائینما کنٹہ جسے باس پلی چیرو بھی کہا جاتا ہے، رجندر نگر میں اپا چیرو اور پلے چیرو راجندر نگر، اور ایل بی نگر میں بکتماں کنٹہ ان 61 جھیلوں میں چند ہیں جنھیں ازسرنو بہتر اور خوبصورت بنایا جائے گا۔ قبل ازیں بھی ریاستی حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے بڑے کام شروع کئے تھے اور 63 جھیلوں کی حالت کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا۔ حیدرآباد لیکس اینڈ واٹر باڈیز مینجمنٹ سرکل اور جی ایچ ایم سی نے ان جھیلوں پر فینسنگ کرنے کے علاوہ تعمیراتی کام انجام دینے بشمول واکنگ ٹریکس، بند کی مضبوطی، لینڈ اسکیپنگ، شجرکاری اور روشنی کا انتظام۔ ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’زیادہ تر جھیلوں پر کام مکمل ہوگئے ہیں جبکہ چند جھیلوں کے کام عدالت میں مقدمات کے باعث نہیں ہوپائے ہیں‘‘۔ ان کے علاوہ مزید 14 جھیلوں کی حالت کو مختلف کمپنیوں کی جانب سے ان کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت بہتر بنایا جارہا ہے جس میں 10 جھیلوں پر کام جاری ہے اور مابقی چار کے تحفظ کے لئے جلد ہی ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے جائیں گے۔