واشنگٹن : امریکہ کی بدنام زمانہ گوانتاموبے جیل سے 15 برس بعد رہا کیے جانے والے افغان شہری کا گھر پہنچنے پر ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسداللہ ہارون نامی افغان شہری نے کیوبا کے جزیرے پر قائم امریکی جیل میں برسوں بغیر کسی فردِ جرم عائد کیے جانے کے گزارے۔اسداللہ ہارون کو 2006 میں حراست میں لیا گیا تھا جب وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفر کر رہے تھے۔ وہ خود کو شہد کا تاجر قرار دیتے ہیں جبکہ امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ القاعدہ کے پیغام رساں اور عسکریت پسند گروپ حزب اسلامی کے کمانڈر ہیں۔کابل ایئرپورٹ پہنچنے پر اسداللہ ہارون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر مجھے گوانتاناموبے میں رکھا گیا۔‘قبل ازیں طالبان حکام نے ان کی پرائیویٹ جیٹ کے ذریعے قطر سے آنے کی تصاویر جاری کی تھیں جن میں اْن کے ساتھ طالبان کے سینیئر عہدیدار بھی نظر آ رہے ہیں۔طالبان رہنماؤں جیسی کالی پگڑی سر پر باندھے اسداللہ ہارون نے کہا کہ ان کے خاندان اور رشتہ داروں نے بہت مشکل وقت دیکھا۔گوانتاموبے سے رہا ہونے والے اسداللہ ہارون کے بڑے بڑے بینرز کابل ایئرپورٹ کی شاہراہ کے اطراف بجلی کے کھمبوں کے ساتھ لگائے گئے تھے۔