اقلیتوں کی نمائندگی کیلئے کوئی دعویٰ نہیں، مذہبی تنظیموں اور جماعتوں سے معنی خیز خاموشی
حیدرآباد۔10اکٹوبر۔(سیاست نیوز) گورنر کوٹہ کے تحت موجود 3اراکین قانون ساز کونسل کی نشستوں پر ہر طبقہ اپنا دعویٰ پیش کر رہا ہے لیکن اقلیتوں کی نمائندگی کے سلسلہ میں کسی بھی گوشہ یا قائد کی جانب سے دعویٰ پیش نہیں کیا جار ہاہے اور نہ ہی کوئی ملی ‘ مذہبی تنظیم یا ادارہ کے وفود ریاستی حکومت پر مسلم نمائندگی میں اضافہ اور 3اراکین قانون ساز کونسل کی نامزدگی میں مسلمانوں کے حصہ کی فراہمی کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ملی ‘ مذہبی تنظیموں اور جماعتوں کی جانب سے اختیار کی گئی اس خاموشی کے برعکس بی سی طبقہ نے 3 میں دو نشستوں پر اپنا دعویٰ پیش کرنا شروع کردیا ہے جبکہ 1 نشست پر دلت قائد کی رکن قانون ساز کونسل کی حیثیت سے نامزدگی کو یقینی بنانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ ریاست میں برسراقتدار کانگریس گورنر کوٹہ میں اراکین قانون ساز کونسل کی نامزدگی کے سلسلہ میں سفارش کرنے کی مجازہوتی ہے اور تلنگانہ کابینہ اپنے سفارش کردہ ناموں کو گورنر کے پاس روانہ کرتے ہوئے ان کی منظوری کو یقینی بناتی ہے۔ نومبر میں جن اراکین قانون سازکونسل کی معیاد مکمل ہونے جا رہی ہے ان میں بی دیانند ‘ بسواراج ساریا کے علاوہ جی وینکنا شامل ہیں اور ان کی جگہ نئی نامزدگیوں کے سلسلہ میں نہ صرف بی سی طبقہ نے بلکہ بی سی طبقہ میں شامل ذیلی طبقات نے بھی اپنی آواز بلند کرتے ہوئے انہیں نمائندگی فراہم کرنے کا مطالبہ شروع کردیا ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے پدماشالی طبقہ کو گورنر کوٹہ کے تحت نامزد کئے جانے والے اراکین قانون ساز کونسل میں نمائندگی فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے جبکہ مادیگا طبقہ نے بھی ان کے اپنے طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کو تلنگانہ قانون سازکونسل میں نمائندگی فراہم کرنے کا مطالبہ شروع کردیا ہے اور اس سلسلہ میں کانگریس پارٹی ہائی کمان کے علاوہ ریاستی حکومت سے تحریری نمائندگیوں کے علاوہ دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔تلنگانہ قانون ساز کونسل کے 3اراکین قانون ساز کونسل کی معیاد کی تکمیل سے قبل تمام طبقات اپنی نمائندگی کو بہتر بنانے اور اس میں اضافہ کے لئے کوششوں کا آغاز کرچکے ہیں لیکن اس کے برخلاف مسلم طبقہ مکمل طو رپر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ پسماندہ طبقات اور دلت طبقات کے ذیلی طبقات ان کی نمائندگی کو بہتر بنانے کے لئے کی جانے والی نمائندگیوں کے ذریعہ کسی نام یا فرد کی تائید و حمایت میں کوشش نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنے طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائد کو ایوان میں نمائندگی دلوانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ صدر پردیش کانگریس مسٹر مہیش کمار گوڑ جو کہ بی سی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ 3نشستوں میں 2 نشستوں پر بی سی طبقہ کو نمائندگی فراہم کئے جانے کے اشارے دے رہے ہیں ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں مسلم نمائندوں کی تعداد 2 کی حد تک رہ گئی ہے حالانکہ تکنیکی اعتبار سے یہ تعداد 3 ہے لیکن رحمت بیگ اب کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی کہیں کسی طرح کی نمائندگی کر رہے ہیں تو ایسی صورت میں محض محمد اظہر الدین ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کے علاوہ جناب ریاض الحسن آفندی تلنگانہ قانون ساز کونسل میں مسلم نمائندہ کی حیثیت سے موجود ہیں جبکہ 40 رکنی کونسل میں مسلمانوں کو مزید نمائندگی فراہم کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے کیونکہ کانگریس کے پاس ایک بھی منتخبہ مسلم رکن اسمبلی موجود نہیں ہے جس کے نتیجہ میں ریاستی حکومت نے محمد اظہر الدین کو قانون ساز کونسل کا رکن بنانے سے قبل کابینہ میں شامل کرنے کا حلف دلاتے ہوئے انہیں رکن قانون ساز کونسل بنایا تھا۔ گورنر کوٹہ کے تحت موجود 3 اراکین قانون ساز کونسل کی نشستوں پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانو ںکو اپنا دعویٰ پیش کرنا چاہئے اور دلتوں اور پسماندہ طبقات کی طرح سیاسی طور پر باشعور ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے حصہ داری کی بات کرنی چاہئے ۔H/M/3