بیروت : لبنان باضابطہ طور پر پیر کو تو مختلف اوقات میں بیدار ہوا۔ ملک گرمی اور سردی کے دو اوقات میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اوقات کی تقسیم نے عیسائی اور مسلمان کے حوالے سے فرقہ وارانہ رنگ بھی اختیار کرلیا ہے۔ گھڑی میں پیچھے رکھنے یا آگے بڑھانے” کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے آج پیر کو حکومتی اجلاس منعقد ہونے کی توقع ہے۔ لبنانی شہری سردیوں اور گرمیوں کے وقت کو اپنانے والے اداروں کے درمیان تقسیم ہوکر الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔مثال کے طور پر بیروت کے ایک کیتھولک سکول میں ٹیچر کے طور پر کام کرنے والی ہنادی کو یہ نہیں معلوم ہے کہ وہ اگلے اپریل کے آخر تک ایک ماہ کے لیے ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو اپنانے میں تاخیر کے معاملے سے کیسے نمٹے گی۔ کیونکہ اس کے اسکول نے دن کی روشنی کی بچت والے وقت کو نافذ کردیا ہے۔