گیہوں کا آٹا، ڈبل روٹی اور بسکٹوں کی قیمتوں میں ریکارڈ توڑ اضافہ

   

نئی دہلی: ہندوستان کے کئی علاقوں میں گیہوں کا آٹا ایک ایسی شئے ہے جس کا استعمال تقریباً ہر گھر میں کیا جاتا ہے لیکن اب یہ بھی مہنگائی کی زد میں آکر عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوتا جارہا ہے۔ جاریہ سال ماہ اپریل تک بھی گیہوں کے آٹے کی قیمت 32 روپئے فی کیلو تھی جو اپنے آپ میں جنوری 2010ء سے اب تک کی سب سے زیادہ قیمت تھی لیکن اب ستم ظریفی یہ ہوئی ہے کہ جو ڈیٹا ریاستی سیول سپلائز ڈپارٹمنٹ وزارت امور صارفین، غذا اور عوامی تقسیم کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اس میں گزشتہ ایک سال کے دوران آٹے کی قیمت میں 9.15 فیصد کا اضافہ بتایا گیا ہے جن 156 مراکز کے لیے ڈیٹا دستیاب کرایا گیا ہے ان میں گزشتہ ہفتہ کے روز تک گیہوں کے آٹے کی قیمت کچھ یوں بتائی گئی ہے پورٹ بلیئر 59 روپئے کیلو، ممبئی میں 43 روپئے فی کیلو، حیدرآباد میں 45 روپئے فی کیلو، چینائی میں 34 روپئے فی کیلو، کولکتہ میں 29 روپئے فی کیلو، نئی دہلی میں 27 روپئے فی کیلو اور پرولیا (مغربی بنگال) میں 22 روپئے فی کیلو قابل ذکر ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ کو بھی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ بتایا گیا ہے کیوں کہ دنیا میں جتنا بھی گیہوں برآمد کیا جاتا ہے اس کا ایک چوتھائی روس اور یوکرین کے ذریعہ ہی برآمد کیا جاتا ہے اور جنگ کی وجہ سے پیداوار ٹھپ ہوگئی ہے۔