حیدرآباد ۔ 18 ۔ اگست (سیاست نیوز) حیدرآباد سٹی پولیس کو رات دیر گئے کارروائیوں میں تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ رات دیر گئے سڑکوں پر گھومنے والے نوجوان نے پولیس کو لاجواب بنادیا، جب پولیس نے ان سے وجہ پوچھی تو جواب سے پولیس خود دنگ رہ گئی اور نوجوانوں سے خود سوال کرنے لگی کہ آیا اس وقت کھانا کہاں ملتا ہے ۔ یہ واقعہ کل رات دیر گئے میرچوک ڈیویژن میں پیش آیا ۔ خود پولیس کے اعلیٰ عہدیدار کو نوجوان نے جواب دیا کہ وہ کھانے کی تلاش میں آیا ہے ۔ رات دیر گئے ہوٹل اور ریسٹورینٹ کھلا رکھنے کی شہر میں روایت بن گئی ہے، ایک طرف کاروباری ادارے کھلے رہتے ہیں تو دوسری طرف پولیس کی کارروائی جیسے چبوترہ مشن بے معنیٰ ثابت ہورہا ہے ۔ نوجوان کی وضاحت تھی کہ اگر دوکان کھلی نہیں رہتی تو اس طرف کیوں آتے۔ اس واقعہ نے پولیس کو چوکسی اور دلچسپی کی قلعی کھول دی۔ شہر میں ان دنوں رات دیر گئے تک بریانی ، مندی ، چائے اور دیگر غذائی اشیاء کے ریسٹورینٹ کھلے رہنے کی اطلاعات پائی جاتی ہیں اور کل پولیس کو کارروائی میں یہ بات عیاں ہوگئی ۔ شہر کے چارمینار اور گولکنڈہ زون کے علاوہ راجندر نگر زون میں رات دیر گئے کاروبار کی سرگرمیاں عروج پر پائی جاتی ہیں اور پولیس پر الزام ہے کہ پولیس ان ہوٹل اور ریسٹورینٹس کے خلاف کارروائی نہیں کرتی بلکہ مبینہ طور پر کاروباری افراد سے ساز باز کرتے ہوئے انہیں پچھلے دروازہ سے کاروبار کا موقع فراہم کرتی ہے اور برائے نام ان اداروں کے خلاف چھوٹے مقدمات (پٹی کیس) درج کرتی ہے تاکہ کارروائی کا حوالہ دیا جاسکے بلکہ پولیس پر یساسی سفارشات پر عمل کرنے اور مسائل کو ان دیکھا کرنے کے بھی الزامات پائے جاتے ہیں ۔ سیاسی آڑ میں پولیس اپنی چاندی بنارہے ہیں اور مخصوص افراد کو رات دیر گئے کاروبار کی اجازت دے رہی ہے اس طرح کے سنگین الزامات کا سٹی پولیس سامنا کر رہی ہے۔عk/i/