نئی دہلی : ہماچل پردیش کے شہری ترقیات کے وزیر بکرمادتیہ سنگھ کے بیان پر کانگریس میں شدید ناراضگی کا ماحول ہے اور اعلی کمان کے کہنے پر یہاں پہنچے مسٹر سنگھ پارٹی قیادت کو اپنے بیانات کے تعلق سے وضاحت دے رہے ہیں۔ کانگریس ذرائع کے مطابق مسٹر بکرمادتیہ اور ان کی ماں اور ریاستی کانگریس صدر پرتبھا سنگھ گزشتہ دو دنوں سے اعلی کمان کی طلبی پر دہلی میں مقیم ہیں اور آج انہوں نے پارٹی کے کئی سرکردہ قائدین سے ملاقات کی۔ اعلی کمان کا رخ دیکھ کر محترمہ سنگھ نے کہا کہ تنازعہ پیدا کرنا ان کا مقصد نہیں تھا۔ دریں اثنا، ذرائع نے بتایا کہ کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے آج مسٹر سنگھ کو طلب کیا اور سخت لہجے میں کہا کہ پارٹی کا نظریہ نفرت کے خلاف ہے اور اسے برقرار رکھنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے ۔ وزیر ہو یا کارکن، اسے پارٹی نظریے کے خلاف جانے کا کوئی حق نہیں۔ رپورٹس کے مطابق وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس اتحاد میں یقین رکھتی ہے ۔ پارٹی لیڈر راہول گاندھی مسلسل نفرت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ پارٹی کا اپنا واضح نظریہ ہے اور کانگریس کے ہر لیڈر اور کارکن کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔ مسٹر سنگھ کی ماں نے کہا کہ نام کی تختی کا تنازعہ لوگوں کی حفاظت کیلئے ہے ۔ اگر لوگ باہر سے ہماچل آتے ہیں تو انہیں صاف ستھرا کھانا ملے ، اس لیے نام کی پلیٹیں ضروری ہیں اور اس کیلئے کمیٹی بنائی گئی ۔ کمیٹی میں اپوزیشن و کانگریس کے ایم ایل اے بھی ہیں اور کمیٹی رپورٹ کے مطابق اعلی کمان کی رضامندی سے فیصلہ کیا جائے گا۔ اعلی کمان کے ان سے ناراض ہونے کے سوال پر مسٹر سنگھ نے کہا کہ ناراضگی کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس میں تمام جماعتوں کے رہنما شامل ہیں اور کمیٹی کے فیصلوں پر عمل کیلئے غور کیا جائے گا۔