مجلس کے قائد کی کانگریس میں شمولیت کے ساتھ رکن پارلیمان پر درپردہ الزامات
حیدرآباد۔2۔ستمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں مجلس اتحاد المسلمین کی پریشانیوں کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ قومی سطح پر عاصم وقار نے مجلس کیلئے نئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ ’روزنامہ سیاست‘ نے چند ہفتہ قبل ہی اس بات کی پیش قیاسی کی تھی کہ مجلس اتحاد المسلمین کے قومی ترجمان جناب عاصم وقار پارٹی کو خیر آباد کرتے ہوئے کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ عاصم کی آج کانگریس میں شمولیت کے بعد انہوں نے مہذب انداز میں جو الزامات عائد کئے ہیں وہ مجلس اتحاد المسلمین کیلئے پریشانیوں کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے کانگریس میں شمولیت کے بعد ’’ہمایوں کبیر‘‘ کو 1100 کروڑ کی بی جے پی کی جانب سے حوالگی اور بنگال میں بابری مسجد کی تعمیر کے اعلان کے منصوبہ اور 1100 کروڑ کی تقسیم کے حصہ داروں کی تفصیلات کو منظر عام پر لانے اور اس سلسلہ میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ عاصم قومی ذرائع ابلاغ اداروں میں گذشتہ کئی برسوں سے مجلس اتحادالمسلمین کے موقف کو پیش کرنے کے علاوہ اس کا دفاع کرتے رہے ہیں اور اب وہ مجلس پر نشانہ لگانے لگے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں مرزا رحمت بیگ کے معاملہ میں اب تک پارٹی قیادت اور صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی کسی بھی طرح کا جواب دینے کے موقف میں نہیں ہیں اور اپنے قریبی حلقوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ’’رحمت ‘‘ کے معاملہ میں غلط ثابت ہوئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بہار کے مجلس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اراکین کے معاملہ میں بھی وہ غلط ثابت ہوچکے تھے ‘ مغربی بنگال انتخابات سے عین قبل ہمایوں کبیر کی سیاسی جماعت سے اتحاد کا اعلان کے بعد بھی وہ غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ اترپردیش انتخابات میں او پی راج بھر کی سیاسی جماعت سے اتحاد اور انتخابات کے بعد او پی راج بھر کی بی جے پی حکومت میں شمولیت کے بعد بھی بیرسٹر اسدالدین اویسی غلط ثابت ہوچکے تھے۔ اترپردیش میں عاصم کی پارٹی میں شمولیت کو پارٹی کیلئے انتہائی اہمیت اور پارٹی کی مقبولیت کا باعث تصور کیا جارہا تھا اور اب جبکہ عاصم پارٹی سے علحدگی اختیار کرچکے ہیں تو ایسی صورت میں بیرسٹر اسدالدین اویسی ان کے متعلق بھی خود کو غلط ثابت ہونے کااعتراف کریں گے یا جس طرح کے حالات کا سامنا پارٹی کو کرنا پڑرہا ہے اسی ڈگر پر پارٹی اور پارٹی قائدین کو چلنے کیلئے چھوڑ دیا جائے گا !۔3