ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کیلئے فعال ہزاروں جدید سنٹری فیوجزکو روک دیا جائے گایاہٹا دیا جائے گا
واشنگٹن : امریکی قومی سلامتی کونسل نے منگل کو کہا ہے کہ ایران نے حساس معاملات پر رعایتیں دی ہیں، واشنگٹن نے نہیں۔ کونسل نے مزید کہا کہ صدر جو بائیڈن اس بات پر پختہ اور پرعزم ہیں کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کا نام دہشت گردوں کی فہرستوں سے نہیں ہٹائیں گے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے تہران کو اپنے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران کو 3.67 فیصد سے زیادہ کی شرح سے یورینیم افزودہ کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اسے 2031 تک 300 کلوگرام سے زیادہ یورینیم ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔بائیڈن انتظامیہ کے عہدہ دار نے منگل کے روز کہا کہ خلا اب بھی باقی ہے لیکن اگر ہم معاہدے پرواپس آنے کے سمجھوتے پر متفق ہو جاتے ہیں تو ایران کو اپنے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے کے لیے بہت سے اہم اقدامات کرنا ہوں گے۔اس ضمن میں اس عہدہ دار نے بتایا کہ ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے لیے فعال ہزاروں جدید سنٹری فیوجزکو روک دیا جائے گایاہٹا دیا جائے گا۔ان میں فردو میں زیرزمین واقع مضبوط نیوکلیئر تنصیب میں تمام سنٹری فیوجز بھی شامل ہیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی سخت حدود کا مطلب یہ ہوگا کہ اگروہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے حصول کے لیے معاہدے سے دستبردار بھی ہوجاتا ہے تو اس کو ایسا کرنے میں کم سیکم چھے ماہ لگیں گے۔ایران سے مجوزہ معاہدے کو امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن دونوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس عہدہ دار نے کہا کہ ’’پلوٹونیم پر مبنی نیوکلیئر ہتھیار‘‘ کی تیاری کے لیے کسی بھی ایرانی راستے کو بھی روک دیا جائے گا۔بائیڈن انتظامیہ نے بار بار اپنیاس یقین کا ذکر کیا ہے کہ 2015 کے نیوکلیئر معاہدے کی بحالی ہی ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔امریکی حکام گذشتہ کئی ماہ سے یہ کَہ رہے ہیں کہ یہ معاہدہ ’’ہفتوں کی دوری‘‘پر ہے۔دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ نیا معاہدہ 2015ء کے اصل معاہدے سے مختلف ہوگا۔امریکی عہدہ دار نے تجویز پیش کی کہ نئے معاہدے کے تحت ایران نیوکلیئر قدغنوں کا پابند ہوگا اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے نیوکلیئر نگران ادارے کو’’اب تک کے معائنے کے سب سے جامع نظام‘‘ پرعمل درآمد کے قابل ہونے کی اجازت دے گا۔